ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو میں کہا کہ ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے پاکستان محتاط انداز میں پُرامید ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مثبت پیشرفت نہ ہو رہی ہوتی تو فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ایک ماہ میں دو بار تہران نہ جاتے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور بلاجواز تنقید کرنے والے طاقتور عناصر سرگرم ہیں۔ یہ وہ عناصر ہیں جو سمجھتے ہیں کہ جاری تنازع اور جنگ ان کے مفادات کے لیے فائدہ مند ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ معاہدے کی شقیں نئے ممالک کی شمولیت میں رکاوٹ نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا دیوہیکل روبوٹ، گائے جتنا وزن اٹھائے گا
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران علاقائی امن کے مشترکہ وژن پر یقین رکھتا ہے تو وہ بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ کسی نئے ملک کو معاہدے میں شامل کرنے کا فیصلہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی سیاسی قیادت کرے گی۔












