اسلام آباد(پاک ترک نیوز) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک کے منتخب علاقوں میں قومی یا صوبائی بجلی کے گرڈ سے الگ، خودمختار بجلی نظام متعارف کرانے کے لیے نئے ضابطہ جاتی فریم ورک کا مسودہ پیش کر دیا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت وفاقی یا صوبائی حکومتیں ایسے علاقوں میں بجلی کی فراہمی کا متبادل انتظام قائم کر سکیں گی جہاں بجلی کی تقسیم کے نظام میں مسلسل زیادہ نقصانات، بلوں کی کم وصولی، ناقص سروس یا روایتی نیٹ ورک برقرار رکھنے کے اخراجات ناقابلِ برداشت ہوں۔
نیپرا کے مجوزہ ضوابط کے مطابق ابتدائی طور پر ہر بجلی تقسیم کار کمپنی کے لیے زیادہ سے زیادہ دو پائلٹ منصوبے شروع کیے جا سکیں گے، تاہم متعلقہ حکومت کی درخواست پر نیپرا اس تعداد میں اضافے کی اجازت دے سکے گا۔
ان نظاموں میں بجلی پیدا کرنے کی اپنی سہولتیں، ضرورت کے مطابق توانائی ذخیرہ کرنے کا انتظام اور بجلی صارفین تک پہنچانے کے لیے متعلقہ انفراسٹرکچر شامل ہو سکتا ہے۔ ان کا قومی یا صوبائی گرڈ سے براہِ راست یا بالواسطہ برقی رابطہ نہیں ہوگا۔
مسودے میں کسی ایک ٹیکنالوجی کو لازمی قرار نہیں دیا گیا۔ متعلقہ حکومت ہر منصوبے کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور اس پر عمل درآمد کی تفصیلات فراہم کرے گی۔ اس طرح مختلف تکنیکی حل اختیار کیے جا سکیں گے، بشرطیکہ وہ متعلقہ حفاظتی، انجینئرنگ اور ریگولیٹری تقاضے پورے کریں۔
منصوبہ شروع کرنے سے پہلے متاثرہ صارفین کو اطلاع اور مشاورت کا انتظام بھی کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ بجلی کی دستیابی، فراہم کی جانے والی گنجائش، خرابی دور کرنے کے وقت، آلات کی تبدیلی اور شکایات کے ازالے سے متعلق کم از کم سروس معیار طے کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا دورہ منڈی بہاؤالدین،عوام کی طرف سے پرتپاک استقبال ،پھولوں کی پتیاں نچھاور
مجوزہ فریم ورک کا اہم نکتہ یہ ہے کہ خودمختار بجلی نظام کے اخراجات متعلقہ وفاقی یا صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ فنڈنگ سرکاری گرانٹس، سبسڈی یا دیگر مالی وسائل سے کی جا سکے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر اخراجات میں شراکت کا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔












