کابل ( پاک ترک نیوز) افغانستان میں طالبان حکومت کے دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق جینوسائیڈ واچ کی نئی رپورٹ سامنے آ گئی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کی پالیسیوں کے باعث شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق طالبان نے سیاسی اور شہری حقوق محدود کر دیے، مختلف ادارے تحلیل کیے اور اسلامی قوانین کی اپنی تشریح کے مطابق سخت پابندیاں نافذ کیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں، عام شہریوں اور سابق سرکاری ملازمین کو من مانی گرفتاریوں اور سخت سزاؤں کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے باوجود معمولاتِ زندگی رواں دواں
جینوسائیڈ واچ کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران طالبان حکام نے 449 سے زائد افراد کو جسمانی سزائیں دیں، جبکہ 777 سے زائد افراد کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش ظاہر کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بنیادی حقوق، شخصی آزادی اور معاشی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔












