واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک نئی جنگ چھڑنے کو تیار ہے! ایک طرف ایلون مسک کا اسٹارلنک، تو دوسری طرف دنیا کی بڑی تجارتی کمپنی ایمازون! مقابلہ زمین پر نہیں، خلا میں ہوگا! ایمازون نے ایک ہزارواں سیٹلائٹ تیار کر لیا، راکٹ بھی تیار، اور ہدف ہے رواں سال کے اختتام تک خلائی انٹرنیٹ سروس شروع کرنا! لیکن کیا جیف بیزوس کی ایمازون، ایلون مسک کے اسٹارلنک کو ٹکر دے پائے گی؟ دیکھیے یہ دلچسپ رپورٹ!
خلا میں انٹرنیٹ کی جنگ مزید تیز ہونے جا رہی ہے! ایلون مسک کے اسٹارلنک کو اب ملنے والا ہے ایک بڑا حریف، جو صرف آن لائن خریداری ہی نہیں، بلکہ دنیا کو انٹرنیٹ سے جوڑنے کے لیے بھی میدان میں اتر رہا ہے!
یہ بھی پڑھیں: اینکر پرسن اقرار الحسن لاہور میں گھر سے زیر حراست
جی ہاں! ایمازون نے اپنے خلائی انٹرنیٹ منصوبے ’’ایمازون لیو‘‘ کے تحت ایک ہزارواں سیٹلائٹ تیار کر لیا ہے، جبکہ رواں سال کے اختتام تک تجارتی سروس شروع کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے!لیکن اصل حیرت سیٹلائٹس کی تیاری کی رفتار ہے!کمپنی کے منصوبے کے سربراہ راجیو بادیال کے مطابق، ابتدائی 27 سیٹلائٹس بنانے میں چھ ماہ لگے، لیکن اب ایمازون ایک ہفتے میں 27 سیٹلائٹس تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے!یعنی خلا میں انٹرنیٹ کا جال بچھانے کے لیے تیاری تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے!اور مقابلہ صرف عام صارفین تک محدود نہیں! ایمازون نے ڈیلٹا ایئرلائنز کے ساتھ طیاروں میں انٹرنیٹ فراہم کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ مستقبل میں فضائی سفر، بحری جہازوں اور دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اس منصوبے کے اہم اہداف ہیں!
کمپنی اپنے سیٹلائٹس کو خلا میں پہنچانے کے لیے ولکن راکٹ کا سہارا لینے کی تیاری بھی کر رہی ہے۔اب سب سے بڑا سوال! کیا ایمازون، اسٹارلنک کی اجارہ داری کو چیلنج کر پائے گی؟ کیا آنے والے دنوں میں خلا سے انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ صارفین کے لیے نئی سہولتیں اور بہتر انتخاب لے کر آئے گا؟ایک بات طے ہے، انٹرنیٹ کی اگلی بڑی جنگ زمین پر نہیں، خلا میں لڑی جائے گی!












