جکارتہ ( پاک ترک نیوز) انڈونیشیا نے اپنا پہلا طیارہ بردار بحری جہاز بحری بیڑے میں شامل کرلیاانڈونیشیا نے اپنا پہلا طیارہ بردار بحری جہاز باضابطہ طور پر بحری بیڑے میں شامل کرلیا۔ سابق اطالوی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز ’’جوزیپے گاریبالڈی‘‘ کو انڈونیشیا نے نئے نام ’’کے آر آئی سری وجایا-100‘‘ کے ساتھ بحریہ کا حصہ بنایا ہے۔انڈونیشی بحریہ کی جانب سے نئے جہاز کی شمولیت کی تقریب 24 ستمبر کو جکارتہ کی تانجونگ پریوک بندرگاہ پر ہوئی۔ تقریب میں انڈونیشی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد علی نے شرکت کی، جبکہ جہاز کی کمان کرنل موچامد فواد حسن کے پاس ہوگی۔ جہاز پر 399 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
سری وجایا نام قدیم سری وجایا سلطنت سے منسوب ہے، جو موجودہ جنوبی سماٹرا کے علاقے پالم بانگ کے مرکز سے کئی صدیوں تک جنوب مشرقی ایشیا کی اہم بحری تجارتی گزرگاہوں پر اثر انداز رہی۔ انڈونیشی بحریہ کے مطابق یہ نام ملک کی قدیم بحری تاریخ اور آبنائے ملاکا سمیت خطے کی اہم سمندری گزرگاہوں میں ماضی کے کردار کی علامت ہے۔سابق اطالوی طیارہ بردار جہاز 18 ستمبر کو انڈونیشیا پہنچا تھا۔ یہ جہاز 24 اگست کو اٹلی کی بندرگاہ تارانتو سے روانہ ہوا اور بحیرہ روم، نہر سویز، بحیرہ احمر اور بحر ہند سے ہوتا ہوا انڈونیشیا پہنچا۔ سفر کے دوران دو انڈونیشی جنگی جہازوں نے اسے حفاظتی حصار فراہم کیا۔180 میٹر سے زائد طویل سری وجایا کا مکمل بوجھ کے ساتھ وزن تقریباً 13 ہزار 850 ٹن ہے، جبکہ اس کا پروازوں کے لیے مخصوص عرشہ تقریباً 174 میٹر طویل اور 30 میٹر چوڑا ہے۔ جہاز پر تقریباً چار درجے کا خم دار بلند حصہ موجود ہے، جو عمودی یا مختصر فاصلے سے اڑنے اور اترنے والے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی کارروائیوں میں مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون بڑھانے کا فیصلہ
جہاز کو چار طاقتور گیس ٹربائن انجن حرکت دیتے ہیں، جن کی مجموعی طاقت تقریباً 81 ہزار ہارس پاور ہے۔ یہ جہاز 30 سمندری میل فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار حاصل کرسکتا ہے، جبکہ تقریباً 7 ہزار سمندری میل تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اطالوی بحریہ کے استعمال کے دوران جوزیپے گاریبالڈی مختلف نوعیت کی فضائی کارروائیوں میں حصہ لے چکا ہے۔ اس پر عموماً 8 سے 12 عمودی پرواز اور لینڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے جنگی طیارے اور 4 سے 6 ہیلی کاپٹر تعینات کیے جاتے تھے، جبکہ زیادہ سے زیادہ ترتیب میں 16 جنگی طیارے یا 18 ہیلی کاپٹر بھی رکھے جاسکتے تھے۔یہ جہاز افغانستان اور لیبیا میں بھی کارروائیوں کے دوران استعمال ہوا۔ 2001 میں افغانستان کے خلاف کارروائیوں کے دوران اس سے وابستہ جنگی طیاروں نے سیکڑوں پروازیں کیں، جبکہ 2011 میں لیبیا کی کارروائیوں کے دوران بھی جہاز نے کئی ہفتوں تک مسلسل سمندری آپریشن میں حصہ لیا۔











