واشنگٹن (پاک ترک نیوز)امریکی ریاست اوہائیو کے شہر میریس ول میں ڈرائیور کے بغیر چلنے والے دو الیکٹرک ٹرک روزانہ گوداموں کے درمیان سامان منتقل کر رہے ہیں۔
یہ ٹرک سویڈن کی کمپنی این رائیڈ نے تیار کیے ہیں اور انہیں ایز لاجسٹکس کے سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے مطابق ٹرکوں نے رواں موسم گرما میں باقاعدہ کام شروع کیا۔
ان ٹرکوں میں نہ ڈرائیور کے بیٹھنے کے لیے کیبن ہے، نہ اسٹیئرنگ وہیل اور نہ ہی ڈرائیور۔ تاہم آسٹن، ٹیکساس میں موجود ریموٹ آپریٹرز ان کی نگرانی کرتے ہیں۔
کمپنی کے ٹیکنالوجی افسر ہینرک گرین کے مطابق ٹرکوں میں کیمرے، لیزر پر مبنی نگرانی کا نظام اور ریڈار نصب ہیں۔ ٹرک کے چاروں کونوں پر لیزر ٹیکنالوجی جبکہ گاڑی کے گرد دس سے زائد کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔
کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے حفاظت اور کارکردگی سے متعلق اعداد و شمار جمع کیے جا رہے ہیں، تاکہ یہ جائزہ لیا جاسکے کہ ڈرائیور کے بغیر ٹرکوں کی ٹیکنالوجی کو مستقبل میں دیگر راستوں اور بڑے پیمانے پر کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ایز لاجسٹکس کے سربراہ پیٹر کوراٹولا کے مطابق صنعت میں جدت آ رہی ہے اور کمپنی کا مقصد اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنا ہے۔
سڑک پر سفر کرنے والے ڈرائیوروں نے ڈرائیور کے بغیر ٹرکوں کے بارے میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ کچھ افراد نے ٹیکنالوجی کی مکمل آزمائش نہ ہونے پر تحفظات ظاہر کیے، جبکہ بعض کا کہنا تھا کہ خودکار گاڑیاں مستقبل کا حصہ بن رہی ہیں۔
ڈرائیور کے بغیر الیکٹرک ٹرکوں کا میریس ول میں روزانہ استعمال ٹرانسپورٹ کے شعبے میں خودکار ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے عملی استعمال کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔












