غزہ(پاک ترک نیوز ) غزہ امن معاہدے کے تحت آج 20 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں حماس نے 7 یرغمالی ہلال احمر کے حوالے کر دیئے۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے ریڈ کراس کی گاڑیاں غزہ کے علاقے دیرالبلاح پہنچ گئی ہیں، فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں سے بسوں میں سوار ہو رہے ہیں، 1966 فلسطینی قیدیوں کو رہائی کے بعد غزہ کے النصر ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی مغویوں کو رہائی ملتے ہی فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت 20 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے، حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے 20زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی فہرست جاری کر دی ہے جبکہ خان یونس میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں اور عوام کی بڑی تعداد رہائی کے مقام کے قریب جمع ہو گئی ہے۔
مصر کے شہر شرم الشیخ میں آج غزہ امن معاہدے پر دستخط کی باقاعدہ تقریب منعقد کی جائے گی، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمت اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے مصر جا رہے ہیں۔
اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ مغویوں کی واپسی کے بدلے میں اسرائیل 250 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، جن میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے 1700 سے زائد ایسے قیدی جن پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا، رہا کیے جائیں گے، ان میں تقریباً دو درجن بچے بھی شامل ہیں۔
امدادی سامان سے بھرے ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی کارروائی کے باعث جن فلسطینیوں کو جنوب کی طرف بےدخل کیا گیا تھا، وہ واپس شمالی غزہ جا رہے ہیں تاہم وہاں پہنچنے پر وہ تباہی کے مناظر دیکھ رہے ہیں کیونکہ غزہ شہر ملبے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے۔












