لاہور( پاک ترک نیوز) جنگی میدان میں اب صرف فوجی نہیں اتریں گے۔۔۔انسانوں کی جگہ روبوٹ بھی دشمن کے سامنے ہوں گے!یوکرین نے ایسی روبوٹ فوج بنانے کا اعلان کردیا ہے جو ڈرونز کے ساتھ مل کر خطرناک ترین جنگی کارروائیاں کرے گی۔یوکرین نے جنگی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور بڑا قدم اٹھانے کا منصوبہ پیش کردیا۔سابق وزیر دفاع میخائیلو فیدوروف نے "روبوٹس کی فوج” کے نام سے نئے دفاعی منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ایسے انسان نما اور خودکار روبوٹ تیار کرنا ہے جو وہ کام انجام دیں گے جن میں یوکرینی فوجیوں کی جان کو شدید خطرہ ہوتا ہے۔
یہ روبوٹ میدانِ جنگ میں صرف نگرانی نہیں کریں گے۔۔۔بلکہ زخمی فوجیوں کے انخلا، گولہ بارود پہنچانے، بارودی سرنگوں سے نمٹنے، جاسوسی اور دیگر خطرناک کارروائیوں میں استعمال کیے جانے کا منصوبہ ہے۔منصوبے کے مطابق انسان نما روبوٹ ہتھیار دوبارہ تیار کرنے، بیٹریاں تبدیل کرنے، حساس آلات نصب کرنے اور اگلی صفوں تک سامان پہنچانے جیسے کام بھی کرسکیں گے۔یعنی جہاں ایک فوجی کے پہنچنے کا مطلب موت کا خطرہ ہوسکتا ہے۔۔۔وہاں پہلے روبوٹ بھیجا جاسکے گا۔اور سب سے حیران کن بات؟
اس منصوبے میں روبوٹ اور ڈرونز کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے، تاکہ فضائی اور زمینی مشینیں ایک ہی نظام کے تحت کام کرسکیں۔فیدوروف کے مطابق منصوبے کا ابتدائی ہدف انتہائی جارحانہ ہے۔رپورٹس کے مطابق پروگرام شروع ہونے کے پہلے چھ ماہ میں ایک انسان نما روبوٹ کے ذریعے روسی فوجی کو ہلاک کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔پہلے سال میں روبوٹ اور ڈرونز کو ملا کر مشترکہ کارروائی کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن اگر یہ کامیاب ہوگیا تو جنگ کا منظرنامہ بدل سکتا ہے۔سوچیے۔۔۔
میدانِ جنگ میں سامنے دشمن کا فوجی ہو۔۔۔اور اس کے مقابلے میں انسان نہیں، ایک ایسی مشین کھڑی ہو جو خطرناک علاقے میں جانے سے نہ ڈرے۔۔۔کیا مستقبل کی جنگیں فوجیوں سے زیادہ روبوٹس اور ڈرونز لڑیں گے؟یوکرین کا یہ منصوبہ صرف ایک نئی فوج بنانے کی کوشش نہیں۔۔۔بلکہ جنگ کو انسان سے مشین کی طرف منتقل کرنے کا ایک نیا تجربہ ہے۔












