راولپنڈی (پاک ترک نیوز ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان آنے والی ہر دہشتگرد تشکیل میں افغان شہری موجود ہوتے ہیں، جبکہ تقریباً 80 فیصد خودکش بمبار افغان ہیں۔
عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم سے پاکستان کا ایک ہی ٹھوس مطالبہ ہے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کو روکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر افغان طالبان رجیم دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کرتی تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
سعودی عرب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان عملی طور پر سعودی عرب کی مدد کے لیے وہاں موجود ہے اور سفارتی لحاظ سے بھی سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے، جو ایک جذباتی، دیرینہ، تاریخی اور اٹوٹ رشتے سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستانی عوام سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے خلاف ہونے والی کسی بھی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے موجود ہیں اور ان معاہدوں کے تحت کیے گئے وعدوں اور عزم کی پاسداری کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت مسلسل سعودی قیادت سے رابطے میں ہے۔
اسلام آباد ایم او یو کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی مسلسل، انتھک اور انتہائی پرخلوص سفارتکاری کے بعد طے پایا۔
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں۔ دہشتگرد اپنے نظریے کو بندوق کی نوک کے ذریعے عوام پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا مہم بھی بیرونِ ملک سے چلائی جا رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ریاست کی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ ریاست دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنے مؤقف پر واضح اور قائم ہے اور دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔











