انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک نئے خطرناک میزائل کی تیاری میں اہم پیش رفت کرلی ہے۔ ترک دفاعی کمپنی روکٹسَن کا تیار کردہ 300 ای آر میزائل تقریباً 500 کلومیٹر دور موجود اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اب اسے اکینجی جنگی ڈرون سے داغنے کی عملی آزمائش کے قریب پہنچا دیا گیا ہے۔حالیہ آزمائشی مناظر میں اکینجی ڈرون پر یہ میزائل ایک پائلن کے ساتھ نصب دکھائی دیا، جس کے بعد دفاعی ماہرین کی توجہ ترکیہ کی اس نئی طویل فاصلے کی صلاحیت پر مرکوز ہوگئی ہے۔
300 ای آر میزائل کا وزن تقریباً 900 کلوگرام بتایا جاتا ہے، جبکہ اس میں تقریباً 150 کلوگرام وزنی وار ہیڈ موجود ہے۔میزائل کو ایسے اہم اہداف کے خلاف استعمال کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جو دشمن کی جنگی صلاحیت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ان میں کمانڈ مراکز، مواصلاتی مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات اور رسد کے اہم مراکز شامل ہیں۔یعنی میدان جنگ میں دشمن کی اگلی صف پر حملہ کرنے کے بجائے سینکڑوں کلومیٹر دور بیٹھے اس کے اہم فوجی مراکز کو نشانہ بنانا اس میزائل کا بنیادی مقصد ہے۔ترکیہ کا اکینجی پہلے ہی مختلف جدید ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن 300 ای آر کی شمولیت اسے مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔
میزائل کو پہلے ہی ترکیہ کی دفاعی نمائش میں پیش کیا جاچکا ہے، جبکہ اب اسے اکینجی کے ساتھ پرواز کے دوران آزمائش کے مرحلے سے گزارا جا رہا ہے۔ابتدائی مرحلے میں میزائل کے بغیر داغے جانے والی آزمائشوں کے ذریعے ڈرون پر اس کے اثرات، ہتھیاروں کے کنٹرول کے نظام اور پرواز کے دوران میزائل کی کارکردگی جانچی جا رہی ہے۔300 ای آر کو ہدف تک پہنچانے کے لیے مختلف رہنمائی نظام استعمال کیے جاتے ہیں۔سفر کے دوران داخلی نظام اور مصنوعی سیاروں سے حاصل رہنمائی مدد فراہم کرتی ہے، جبکہ آخری مرحلے میں نصب ٹیلی وژن نظام ہدف کی درست نشاندہی اور رہنمائی میں کردار ادا کرتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ میزائل طویل فاصلے تک سفر کرنے کے بعد آخری مرحلے میں اپنے ہدف کو زیادہ درستگی سے نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
بہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی
ترکیہ کا منصوبہ 300 ای آر کو صرف اکینجی تک محدود رکھنے کا نہیں۔اس میزائل کو مستقبل میں ایف سولہ جنگی طیاروں کے ساتھ بھی مربوط کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو ترکیہ کے پاس ایک ایسا ہتھیار ہوگا جو ڈرون اور جنگی طیارے دونوں سے سیکڑوں کلومیٹر دور اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔












