اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان نے طویل وقفے کے بعد کینیڈا سے بڑے پیمانے پر کینولا کی درآمد دوبارہ شروع کردی ہے۔ کینولا کونسل آف کینیڈا کے مطابق پاکستان نے 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران 5 لاکھ 6 ہزار 656 ٹن کینیڈین کینولا خریدا۔کینولا کونسل آف کینیڈا کے صدر کرس ڈیوسن کے مطابق پاکستان نے 2023 سے 2025 تک کینیڈین کینولا کی درآمد تقریباً روک دی تھی، کیونکہ ملک میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلوں کی درآمد سے متعلق قواعد میں تبدیلی کی جارہی تھی۔
پاکستان میں نئے ریگولیٹری فریم ورک کی منظوری کا عمل 2025 کے آخر تک مکمل ہوا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کینولا کی تجارت دوبارہ بحال ہوگئی۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2025 میں ایک لاکھ 65 ہزار 128 ٹن کینولا درآمد کیا تھا، جبکہ 2023 اور 2024 میں کینیڈا سے کینولا کی درآمد صفر رہی۔2026 میں پاکستان کینیڈا سے کینولا خریدنے والا پانچواں بڑا ملک بن گیا ہے۔ اس فہرست میں چین، یورپی یونین، جاپان اور میکسیکو پاکستان سے آگے ہیں۔
کینولا کونسل کے مطابق پاکستان 25 کروڑ 90 لاکھ آبادی کے ساتھ دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جبکہ ملک کی تقریباً 65 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے اور متوسط طبقہ بھی بڑھ رہا ہے، جس کے باعث پاکستان کینولا کے لیے ایک اہم مارکیٹ بن سکتا ہے۔رواں سال جولائی میں پاکستان اور کینیڈا نے کینولا کی درآمد و برآمد کے لیے نیا فائیٹو سینیٹری معاہدہ بھی کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کینولا کی تجارت کو مزید ہموار اور قابلِ پیش گوئی بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔کینیڈین ماہرین کے مطابق پام آئل اور سویا بین سمیت دیگر متبادل خوردنی تیل کی قیمتیں بلند ہونے کے باعث کینولا پاکستان کے لیے ایک پرکشش آپشن بن رہا ہے، خصوصاً اس کے زیادہ تیل پیدا کرنے والے تناسب کی وجہ سے۔
یہ بھی پڑھیں: گیس سبسڈی نظام ختم کرنے پر غور، تمام صارفین کے لیے ایک ہی قیمت مقرر کرنے کی تجویز
کینیڈا کے پاس 2026-27 کے لیے کینولا کا 17 لاکھ 30 ہزار ٹن ابتدائی ذخیرہ موجود ہے، جبکہ شماریاتی ادارے نے رواں سیزن میں 2 کروڑ 16 لاکھ ٹن پیداوار کی پیش گوئی کی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان سمیت دیگر ممالک سے کینولا کی برآمدی طلب برقرار رہی تو کینیڈا کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ کینیڈا کی حکومت نے 2026-27 میں تقریباً 80 لاکھ ٹن کینولا برآمد ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔












