لاہور( پاک ترک نیوز) آج سے 60 سال قبل ناسا نے چاند کے قریب سے زمین کی پہلی تصویر حاصل کی، یہ تاریخی تصویر ایک بغیر انسان خلائی مشن ’لونر آربیٹر ون‘ نے 23 اگست 1966 کو کھینچی تھی۔
خلائی تحقیق کی تاریخ کا ایک یادگار دن۔۔۔23 اگست 1966 کو انسان نے پہلی مرتبہ چاند کے قریب سے اپنی زمین کو تصویر میں محفوظ کیا۔یہ تاریخی کارنامہ ناسا کے بغیر انسان خلائی مشن لونر آربیٹر ون نے انجام دیا، جو چاند کے مدار میں پہنچنے والا پہلا امریکی خلائی جہاز تھا۔لونر آربیٹر ون کو 10 اگست 1966 کو خلا میں بھیجا گیا تھا،اس کا بنیادی مقصد چاند کی سطح کی تفصیلی تصاویر حاصل کرنا اور مستقبل میں اپالو مشنز کے لیے ممکنہ لینڈنگ مقامات کی نشاندہی کرنا تھا۔خلائی جہاز نے چند ہی دنوں میں چاند کی سطح کے لاکھوں مربع کلومیٹر رقبے کی سینکڑوں تصاویر حاصل کیں۔
لیکن ان تصاویر میں ایک تصویر نے تاریخ رقم کردی۔۔۔تصویر میں چاند کی گڑھوں سے بھری سطح سامنے نظر آتی ہے، جبکہ دور سیاہ خلا کے پس منظر میں زمین کا سفید نصف دائرہ دکھائی دیتا ہے۔یہی وہ لمحہ تھا جب انسان نے پہلی بار چاند کے قریب سے اپنی پوری دنیا کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دو سال بعد یہی تصور دنیا کی مشہور ترین خلائی تصاویر میں سے ایک کی بنیاد بنا۔دسمبر 1968 میں اپالو 8 مشن کے دوران خلا باز بل اینڈرز نے ’ارتھ رائز‘ نامی تاریخی تصویر کھینچی، جس میں چاند کے افق کے اوپر زمین طلوع ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
اور 2026 میں آرٹیمس ٹو مشن کے دوران ناسا کی خلا باز کرسٹینا کوچ نے بھی چاند کے قریب سے زمین کی ایک شاندار تصویر کھینچی، جس نے چھ دہائیاں پرانی اس تاریخ کو ایک بار پھر زندہ کردیا۔مگر لونر آربیٹر ون کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔۔۔یہ مشن ابتدائی طور پر ایک سال تک چاند کے مدار میں رہنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن چند ماہ بعد خلائی جہاز کی حالت اس حد تک خراب ہوگئی کہ اسے مزید قابلِ استعمال نہیں سمجھا گیا۔بعد ازاں ناسا نے اسے مستقبل کے مشن میں مداخلت سے بچانے کے لیے چاند کی سطح سے ٹکرا دینے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کمپنی نے کیٹی بندر پورٹ کا ماسٹر پلان پیش کردیا، ابتدائی لاگت 52 کروڑ ڈالر سے زائد
29 اکتوبر 1966 کو اپنی 577ویں گردش کے دوران لونر آربیٹر ون چاند کے دور دراز حصے سے جا ٹکرایا۔ایک چھوٹا سا خلائی جہاز ختم ہوگیا۔۔۔لیکن اس کے کیمرے سے حاصل ہونے والی ایک تصویر نے انسان کو پہلی بار یہ احساس دلایا کہ—کائنات کی وسعت میں ہماری زمین کتنی خوبصورت، کتنی چھوٹی اور کتنی منفرد ہے۔












