لندن (پاک ترک نیوز)
برطانوی حکومت نے پہلی مرتبہ اپنے سرکاری آن لائن نقشہ جات اور مختلف پلیٹ فارمز پر "فلسطینی مقبوضہ علاقوں” کے بجائے ریاستِ فلسطین کا اندراج کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم کیر اسٹارمر نے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان کینیڈا اور آسٹریلیا کے فیصلے کے ساتھ ہم آہنگ ہے جوپہلے ہی فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
برطانوی میڈیاکے مطابق فلسطین کو خود مختار ریاست تسلیم کرنے کے بعد وزارتِ خارجہ کی متعدد ویب سائٹ صفحات میں "فلسطینی مقبوضہ علاقے” کی جگہ "فلسطین” کا نام درج کر دیا گیا۔ ان تبدیلیوں میں وہ صفحات بھی شامل ہیں جن میں اسرائیل اور فلسطین سے متعلق سفری ہدایات، وزارتِ خارجہ کے غیرملکی دفاتر کی فہرست اور خطے کا نقشہ شامل ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اتوار کو وزیراعظم کیر اسٹارمر نے پریس کانفرنس میں ریاستِ فلسطین کے باضابطہ اعتراف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی ہولناکی کے مقابلے میں ہم امن اور دو ریاستی حل کے امکان کو برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ "حماس کا کوئی مستقبل نہیں، نہ حکومت میں کردار ہوگا نہ سکیورٹی کے شعبے میں”۔
یاد رہے کہ برطانیہ جی-سیون کے ان تین ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے فلسطین کو تسلیم کیا ہے۔ اس سے قبل کینیڈا اور آسٹریلیا یہ اعلان کرچکے ہیں۔












