
آر اے شمشاد
پاکستان اور انگلینڈ ایک بار پھر ٹیسٹ کرکٹ کے میدان میں آمنے سامنے آنے کو تیار ہیں، تین میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز کل 19 اگست سے ہوگا، دوسرا ٹیسٹ 27 اگست اور تیسرا و آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے کھیلا جائے گا۔
قومی ٹیم کی قیادت مایہ ناز بلے باز بابر اعظم کر رہے ہیں، جبکہ انگلش ٹیم کی کپتانی جو روٹ کے سپرد ہے۔شائقین کرکٹ کو شاہینوں اور انگلش کھلاڑیوں کے درمیان ایک سنسنی خیز مقابلے کا بے صبری سے انتظار ہے
دونوں ٹیموں کو اپنے کپتانوں سے بڑی اننگز کی امیدیں وابستہ ہیں۔ بابر اعظم جہاں پاکستانی بیٹنگ لائن کی قیادت کریں گے، وہیں جو روٹ کا تجربہ انگلینڈ کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ بھی خاصی دلچسپ رہی ہے۔ دونوں ٹیمیں اب تک 92 مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل آچکی ہیں۔ انگلینڈ نے 30 میچز میں کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان 23 میچز جیتنے میں کامیاب رہا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان 39 مقابلے ڈرا ہوئے۔
تاہم حالیہ تاریخ پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ہے۔دونوں ٹیموں کے درمیان آخری ٹیسٹ سیریز 2024 میں کھیلی گئی تھی، جس میں پاکستان نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے انگلینڈ کو دو ایک سے شکست دی اور سیریز اپنے نام کی تھی۔
اب ایک بار پھر دونوں ٹیمیں میدان میں اتریں گی۔پاکستان کی نظریں اپنی کامیابی کا سلسلہ برقرار رکھنے پر ہوں گی، جبکہ انگلینڈ گزشتہ شکست کا بدلہ لینے کے لیے بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گا۔
بابر اعظم اور جو روٹ کے درمیان بیٹنگ کا مقابلہ بھی شائقین کی خصوصی توجہ کا مرکز ہوگا۔ دونوں ٹیموں کی کامیابی کا انحصار ان کے ٹاپ آرڈر، بولنگ اٹیک اور اہم لمحات میں درست فیصلوں پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا 19 اگست سے آغاز
کیا بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان ایک بار پھر انگلینڈ کو شکست دے پائے گا؟ کیا شاہینوں کے بولرز انگلش بیٹرز کے لیے مشکلات کھڑی کرسکیں گے؟ یا جو روٹ کی قیادت میں انگلینڈ 2024 کی شکست کا حساب برابر کرے گا؟
ان تمام سوالات کے جواب تین ٹیسٹ میچز کے دوران ملیں گے، لیکن ایک بات طے ہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کی یہ ٹیسٹ سیریز شائقین کرکٹ کے لیے بھرپور ایکشن، سنسنی اور دلچسپ مقابلوں سے بھرپور ہوگی۔












