اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کاروباری شعبے کو مزید ٹیکس ریلیف دینے کا عندیہ دے دیا، سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے اور سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئی، جہاں کاروباری برادری نے بلند ٹیکسز، مہنگی فنانسنگ، بجلی کی قیمتوں اور ایف بی آر حکام کی جانب سے مبینہ ہراساں کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
کاروباری نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ زیادہ ٹیکس اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باعث ملکی صنعتیں صرف 40 سے 45 فیصد پیداواری صلاحیت پر چل رہی ہیں، جبکہ متعدد ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار منتقل کر چکی ہیں۔
ایف بی آر کے رکن حامد عتیق سرور نے بتایا کہ حکومت 2025 سے اب تک مختلف شعبوں کو ٹیکس میں ریلیف دے چکی ہے اور مزید سہولت دینے پر بھی غور جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس میں مزید کمی زیرِ غور ہے جبکہ کاروباری اداروں پر سیلز ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے اقدامات بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
ایف بی آر حکام کے مطابق وزیراعظم کی ہدایات پر کاروباری شعبے کو تقریباً 361 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا جا چکا ہے، جبکہ ٹیکسوں کے بوجھ کو مزید متوازن بنانے کا عمل جاری رہے گا۔
اجلاس میں کاروباری نمائندوں نے ایڈوانس اور ودہولڈنگ ٹیکسز میں کمی، کسٹمز ڈیوٹیز کو معقول بنانے، آڈٹ کے طریقہ کار کو آسان کرنے اور فیکٹریوں کی نگرانی کے نظام پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
کاروباری برادری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مزدور نسبتاً کم لاگت پر دستیاب ہیں، تاہم مہنگی بجلی، ٹیکسوں اور دیگر ریگولیٹری رکاوٹوں کے باعث کاروبار کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
کمیٹی کنوینر طلحہ محمود نے کہا کہ حکومت کو موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا چاہیے اور نئے شعبوں و کاروباری اداروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا چاہیے۔
اجلاس میں ایف بی آر کے فیلڈ افسران کی جانب سے بار بار نوٹسز، آڈٹ اور کارروائیوں پر بھی کاروباری برادری نے تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے کاروبار دوست اور شفاف ٹیکس نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اصلاحات جاری ہیں، جن میں ٹیکس ریفنڈز کے لیے موبائل ایپلی کیشن اور بڑے تجارتی مراکز میں خصوصی سہولت دنوں کا اجرا بھی شامل ہے۔
کمیٹی نے گڈز ٹرانسپورٹ کی جاری ہڑتال اور اس کے باعث تجارت و کاروباری سرگرمیوں کو پہنچنے والے نقصان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کنوینر نے حکومت پر زور دیا کہ ٹرانسپورٹرز سے فوری مذاکرات کرکے مسئلہ حل کیا جائے تاکہ کاروباری نقصانات اور اشیائے خورونوش کے خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ ٹیکس دہندگان کی جانب سے حقیقی غلطیوں کی اصلاح کے بعد ان کے اکاؤنٹس 24 سے 48 گھنٹوں میں بحال کیے جائیں، جبکہ ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے مؤثر بائیومیٹرک تصدیقی نظام بھی متعارف کرایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن کمائی کیسے کریں؟
کمیٹی کنوینر نے واضح کیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے کاروبار دوست پالیسیاں، شفاف طرز حکمرانی اور سرمایہ کاری و صنعتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔












