
از : سہیل شہریار
کیا پاکستان میں آنے والےسیلاب کا ذمہ دار صرف بھارت ہے یہ ہے وہ سوال جس کا جواب ملک بھر میں ہر ذی شعور شخص جاننا چاہتاہے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ 2018سے اب تک ملک کو تین مرتبہ تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ہر بار آئندہ تیاری کے احکامات بھی جاری ہوتے ہیں اور بھرپور تیاری کے دعوے بھی کئے جاتے ہیں۔ مگر دو تین سال کے وقفے سے جب سیلاب آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ساری تیاری کاغذوں میں ہی تھی ۔ سبھی کو علم ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی زد میں ہے۔چنانچہ ہمیں شدید بارشوں، بادلوں کے پھٹنے ، بجلیوں کے گرنے، شہروں اور دیہاتوں میں سیلابوں سمیت دیگر آفات کا سامنا سالانہ بنیاد پر کرنا پڑے گا۔
ہمارےوزیر اعظم صاحب سمیت سبھی حکومتی وزرا اور حکام کئی سالوں سے موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دس ملکوں میں پاکستان کے شامل ہونے کے بارے میں ساری دنیا کو بتا رہےہیں۔ مگر ملک کے اندر اس سے نمٹنے کے لئے آج تک کسی بھی حکومت نےخالی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کیا۔ نہ کسی نےشہروں میں شدید بارشوں کے پانی کی نکاسی کے انتظامات پر توجہ دی ہے۔ نہ ہی کسی نے سیلابی پانی سے شہروں کو بچانے کے لئے70 اور80 کی دہائی میں بنائے جانے والے بندوں کو مضبوط کرنے پر توجہ دی۔ نہ کسی نے دریائی پانی کے راستے میں غیر قانونی آباد کاری کو روکنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی دریاکے راستے میں تعمیرات کا سدباب ضروری سمجھا۔
https://www.youtube.com/watch?v=6qcW9bX6wyw
یقیناً اس سب میں صرف حکومت ہی کی غفلت نہیں ہے عوام نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ہم آج جن جانوں کے چلے جانے پر اور زخمی ہونے پر افسردہ ہیں اس کے بڑے حصے کے ذمہ دار بھی ہم ہی ہیں۔ کیونکہ دریا کی زمین پر گھر اور ہوٹل بناتے وقت صرف یہ سوچتے ہیں کہ دریا کی زمین پر ہاتھ صاف کرنے کا نادر موقع مل گیا ہے۔ یا دریا کے ڈیلٹا کی زمین جسے جنوبی پنجاب اور زیریں سندھ میں کچے کی زمین کہا جاتا ہےمیں غیر قانونی طور پر آباد ہوتے اور کاشتکاری کرتے وقت بھی بات مال مفت دل بے رحم کے مصداق ہی ہوتی ہے۔یہ بتانے کی تو ضرورت ہی نہیں کہ یہ سب کچھ متعلقہ حکومتی محکموں کے ملازمین و حکام کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔تو کیا آج تک ملک بھر میں کسی بھی جگہ ان ناخلفوں کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں آئی ۔ جواب ہم سب جانتے ہیں۔
یہ بات بھی کو راکٹ سائنس نہیں ہے کہ شدید مون سون کے دوران پانی کی بڑی مقدار کسی بھی ڈیم یا بیراج کی گنجائش سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔کیا ہمارے متعلقہ محکمے سو رہے تھے جب پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی اسی شدت کے ساتھ بارشیںہو رہی تھیں۔یہ تو عام فہم بات ہے کہ اس قدر زیادہ پانی نے بھارتی ڈیموں کے بھرنے پر نیچے کی جانب ہی چھوڑا جانا تھا۔ تو ہم نے سے نمٹنے کے لئے کیا انتظام کیا تھا۔یہ سچ ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو متعلقہ ذرائع سے اطلاع نہیں دی اور نہ ہی وہ اب ہمارے ساتھ آبی ڈیٹا ہی شئیر کر رہا ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع سے تو اطلاع کی جاتی رہی ہے۔
آبی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ الزام تراشی کا کھیل دونوں طرف سے قلیل مدتی سیاسی مقاصد کو پورا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے بھارت پر الزام تراشی قربانی کا بکرا فراہم کر سکتی ہے جو سیلاب کےحوالے سےحکمرانوںکی ناکامیوں سے توجہ ہٹاتی ہے۔مگر یاد رکھیںدریا اپنی زمین کسی کو نہیں دیتے۔ آپ سیلاب کو کنٹرول نہیں کر سکتے، خاص طور پر اونچے یا شدید سیلاب کو۔چنانچہ اپنی ذمہ داری دوسروں پر نہ ڈالیں ۔ آنے والے سال میں اس بار سے 33فیصد زیادہ بارشوں کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔اسکی حقیقی طور پر پیش بندی کریں۔ نام نہاد سیلاب زدگان اور انکے سرپرستوں کا بھی مستقل بندوبست کریں۔تاکہ آنے والے سالوں میں ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے اپنے بل بوتے پر نمٹ سکیں۔












