اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) ہر بار جب پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو عوام کی جیب پر بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں صرف خام تیل یا ریفائننگ کی لاگت شامل نہیں ہوتی بلکہ اس کا ایک بڑا حصہ پٹرولیم لیوی کی صورت میں حکومت وصول کرتی ہے۔ آخر یہ لیوی کیا ہے، عوام سے کتنی وصول کی جا رہی ہے، اور اگر یہ ختم کر دی جائے تو پٹرول کی قیمت کتنی کم ہو سکتی ہے؟ دیکھیے یہ رپورٹ۔
پٹرولیم لیوی دراصل وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور بعض دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کیا جانے والا ایک خصوصی محصول ہے۔ یہ ٹیکس نہیں بلکہ ایک لیوی ہے، جس کی وصولی براہِ راست وفاقی حکومت کے خزانے میں جاتی ہے اور اس کی رقم ترقیاتی منصوبوں، قرضوں کی ادائیگی اور دیگر سرکاری اخراجات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ی بھی پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے بری خبر،قیمت بڑھنے کا امکان
رواں مالی سال کے لیے حکومت نے پٹرولیم لیوی سے تقریباً ایک کھرب روپے سے زائد آمدن کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے باعث لیوی کو ملکی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔
حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق اس وقت پٹرول پر تقریباً 106 روپے 74 پیسے فی لیٹر پٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے، جبکہ ڈیزل پر بھی پچاس روپے سے زائد لیوی عائد ہے۔ حالیہ ایڈجسٹمنٹ میں پٹرول پر لیوی میں معمولی کمی کی گئی، تاہم یہ اب بھی تاریخی طور پر بلند سطح پر ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر صرف پٹرولیم لیوی مکمل طور پر ختم کر دی جائے اور دیگر تمام اخراجات، ڈیوٹیز، مارجن اور عالمی قیمتیں جوں کی توں رہیں تو پٹرول کی فی لیٹر قیمت نظریاتی طور پر تقریباً 106 سے 107 روپے تک کم ہو سکتی ہے۔ تاہم عملی طور پر ایسا ہونا مشکل ہے کیونکہ حکومت کے لیے پٹرولیم لیوی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، اور اسے ختم کرنے سے قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمت صرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت سے طے نہیں ہوتی بلکہ اس میں درآمدی لاگت، ریفائنری لاگت، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پٹرول پمپ مالکان کے منافع، فریٹ مارجن، موسمی یا ماحولیاتی لیوی اور پٹرولیم لیوی سمیت کئی عناصر شامل ہوتے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کا فائدہ مکمل طور پر عوام تک منتقل نہیں کرتی تو اکثر اس کی ایک وجہ پٹرولیم لیوی میں اضافہ بھی ہوتا ہے، تاکہ سرکاری آمدنی برقرار رکھی جا سکے اور بجٹ اہداف پورے کیے جا سکیں۔
پٹرولیم لیوی حکومت کے لیے اربوں روپے کی آمدن کا ذریعہ ضرور ہے، لیکن یہی لیوی عوام کے لیے مہنگے پٹرول کی ایک بڑی وجہ بھی سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی پٹرول کی قیمتوں پر بحث ہوتی ہے تو سوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا حکومت عوام کو ریلیف دے گی یا پھر قومی خزانے کی ضرورت کو ترجیح دے گی۔












