تہران (انٹرنیشنل ڈیسک )تہران: ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم معاہدے پر آج دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ ایرانی عسکری حکام کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس وقت کسی ایسے معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی اور نہ ہی دستخط کے حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے اور کئی اہم معاملات پر پیش رفت متوقع ہے۔ تاہم ایرانی فوج کے ردعمل نے ان توقعات کو وقتی طور پر دھچکا پہنچایا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور دفاعی مفادات سے متعلق معاملات میں جلد بازی یا بیرونی دباؤ کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات، پابندیوں، سفارتی تنازعات اور علاقائی سلامتی کے معاملات نے تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بھی دونوں جانب سے متعدد بیانات سامنے آئے ہیں جن میں مذاکرات اور ممکنہ سمجھوتوں کا ذکر کیا جاتا رہا ہے، تاہم عملی پیش رفت محدود رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی صدر کا بیان ممکنہ طور پر جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے ایک مثبت اشارہ تھا، لیکن ایرانی فوج کی جانب سے فوری تردید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اب بھی کئی اہم نکات پر اختلافات موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کسی بھی بڑے معاہدے سے قبل تکنیکی، سیاسی اور سیکیورٹی معاملات پر تفصیلی اتفاق رائے ضروری ہوگا۔
دوسری جانب عالمی منڈیوں اور خطے کے ممالک نے بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، کیونکہ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری یا کشیدگی کا براہ راست اثر مشرق وسطیٰ کی صورتحال، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار اور پالیسی ساز حلقے بھی دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات کا انتظار کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل مزید مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی ضرورت ہوگی۔ ایرانی فوج کی تردید کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ معاہدے کے حوالے سے ابھی کئی مراحل باقی ہیں۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کی جانب سے مزید بیانات اور سفارتی سرگرمیاں اس معاملے کی سمت کا تعین کریں گی، جبکہ عالمی برادری بھی اس پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔












