تہران ( پاک ترک نیوز) مشرق وسطیٰ بڑی جنگ سے بچ گیا ،سفارت کاری کا راستہ دوبارہ کھل گیا،ایران پر حملے سے چند گھنٹے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ بدل لیا ،خطے میں امن کی امیدیں بڑھ گئیں ۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ چند گھنٹے پہلے تک ایران پر امریکی حملے کی بازگشت سنائی دے رہی تھی، پھر اچانک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان نے عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ کیا جنگ کا خطرہ ٹل گیا؟ یا پردے کے پیچھے کوئی بڑا معاہدہ طے پا چکا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے اور بمباری روک دی گئی ہے کیونکہ ایران کے ساتھ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی، پاکستان، بحرین، کویت، اردن اور مصر سمیت کئی ممالک نے مذاکرات کے حتمی نکات کی منظوری دے دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں اور ہفتے کے اختتام تک دستخط بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، جس سے عالمی منڈیوں اور تیل کی ترسیل میں پیدا ہونے والی بے یقینی ختم ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کا بھی خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ امن کوششوں میں پاکستان بہترین کردار ادا کر رہا ہے اور پاکستانی قیادت نے مثبت سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
ایک طرف امریکی صدر کا بیان تو دوسری جانب ایران نے امریکی دعوؤں پر فوری طور پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک امریکا کے ساتھ کسی حتمی معاہدے کو شکل نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ دستخط کی تاریخ اور مقام سے متعلق خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں جبکہ امریکا مذاکرات کے دوران بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کرتا رہا ہے۔
ایرانی ترجمان نے تصدیق کی کہ قطر اور پاکستان ثالثی کے عمل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم ایران اپنی ریڈ لائنز پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
امریکا اور ایران کے بیانات کے بعد کیا کیا واقعی جنگ کے بادل چھٹنے والے ہیں؟ کیا واشنگٹن اور تہران برسوں کی کشیدگی کے بعد کسی تاریخی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں؟ یا پھر یہ سفارتی شطرنج کی ایک اور چال ہے؟ دنیا کی نظریں اب آنے والے چند دنوں پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ یہی دن طے کریں گے کہ مشرقِ وسطیٰ کو امن ملتا ہے یا ایک نئی کشیدگی جنم لیتی ہے۔












