
از: سہیل شہریار
بنگلہ دیش کی مسلح افواج کے پاکستان اور چین سے بڑھتے تعلقات نے بھارت کے دفاعی پالیسی سازوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔جس کا اظہار بھارتی میڈیا کی جانبدارانہ اور متعصب رپورٹوں سے ہوتا ہے۔
خبر یہ ہے کہ بنگلہ دیشی فوج کے کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمان کی قیادت میں ایک دس رکنی وفد پاکستان کے دورے پر ہے ۔اور وہ یہاں 24اگست تک قیام کرے گا۔ جبکہ بنگلہ دیشی فوج کے سربراہ جنرل وقار الزمان22اگست سے چین کا تین روزہ دورہ کریں گے۔
خبر تو یہ بھی ہے کہ جب تک بنگلہ دیش میںحسینہ واجد کی بھارتی کٹھ پتلی حکومت موجود تھی ۔اس کی جانب سے ملک دفاع پرخرچ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اور جو جدید ہتھیاروں کی خریداری کے معاہدے تھے بھی تو وہ بھارت کے ساتھ تھے۔ جس کے نتیجے میں آج بنگلہ دیش کی افواج کو ہر شعبے میںکم مائیگی کا سامنا ہے۔
بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام سے اب تک ایک سال کے دوران دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان تعلقات تیزی سے مستحکم ہو رہے ہیں۔سال کے آغاز سے اب تک سینئر افسران کے تین اہم دوروں کا تبادلہ ہو چکا ہے۔اوراب بنگلہ دیش کے کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمان کی قیادت میں سینئر افسران کی دس رکنی ٹیم 16 اگستسےپاکستان کے دورے پر ہےجو 24اگست تک جاری رہے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمن کے ساتھ دیگر سینئر افسران میں بریگیڈیئر جنرل قاضی اے ایس ایم شہریار پرویز اور بریگیڈیئر جنرل محمد عبدالعزیز کے علاوہ ایک کرنل، دو لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمن کی قیادت میں بنگلہ دیشی فوج کی ٹیم کا پاکستان کا حالیہ دورہ مکمل طور پر پیشہ ورانہ نوعیت کا ہے ۔ یہی وجہ ہے پاکستانی میڈیا میں اس کا کہیں ذکر نہیں ۔ مگر بھارتی میڈیا کے پیٹ میں مسلس مروڑ اٹھ رہے ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=N_FlJ9UQQaE
یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال مارچ میں بھارتی دفاعی پنڈتوں نے میڈیا کی مدد سے بنگلہ دیش آرمی میں بغاوت کا ایک ڈرامہ رچانے کی ناکام کوشش کی تھی جس کا مرکزی کردار لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمن ہی تھے۔ جن پر بھارتی تنگ نظر میڈیا نے ملک کی مذہبی تنظیموں خصوصاً جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلقات ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اس نام نہاد بغاوت کے پیچھے پاکستان کو کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر جھوٹ کی یہ ہنڈیا بیچ چوراہے میں ٹوٹ گئی۔
اس دورے کا مقصد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی تعاون کوفروغ ہے۔اس میں بنگلہ دیشی افسران کے پاکستانی دفاعی اداروں کےتفصیلی دورے اور سینئر افسران سے ملاقاتوں سمیت آرڈیننس فیکٹریوں اور جدید ہتھیاروں جیسے میزائل اور ڈرون بنانے والے اداروں کے دورے اور بریفنگنز شامل ہیں۔
اس دورے کا ایک اہم حصہ بنگلہ دیشی فوج کی انونٹری میں موجود ایم آئی سیریز کے ہیلی کاپڑوں کی دیکھ بھال، مرمت اور اوور ہالنگ کی پاک آرمی کی سہولیات کا دورہ ہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیشی ٹیم خاص طور پر طویل فاصلے تک ٹیکٹیکل مشنز کے لیے استعمال ہونے والے یو اے وی(ڈرون)سسٹمز پر توجہ مرکوز کرے گی۔
سب سے اہم یہ کہ دورے کے دوران بنگلہ دیش آرمی کی ٹیم اپنے ہاں آرڈیننس کے شعبے کو جدید بنانے، ملکی ضروریات کی مناسبت سے مناسب پلیٹ فارمز کا انتخاب، ممکنہ اختراعات اور بنگلہ دیش آرمی اور دفاعی پیداوار کے شعبوں کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے پاکستان سے تعاون کے حصول کے لئے پاکستانی تجربے کی روشنی میں تجاویز تیار کرے گی۔جو بنگلہ دیش کی مسلح افواج کو "اسٹریٹجک اہمیت” دیں گی۔
بات واضح ہے پانچ دہائیوں پہلے دو بھائیوں کو سازشوں سے ایک دوسرے سے الگ کرنے والے یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ انکے درمیان غلط فہمیاں دور ہو جائیں اور باہمی تعاون اور بھائی چارے کا نیا دور شروع ہوجائے۔اسی لئے بھارتی میڈیا ایک بار پھر چیخ و پکار میں مصروف ہے۔












