کراچی ( پاک ترک نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر پارٹی کی پارلیمانی قیادت کا اہم اور سخت اجلاس ہوا، جس کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومتی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور متعدد سخت سوالات اٹھائے۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماؤں سے استفسار کیا کہاگر صورتحال کنٹرول نہیں کی جا سکتی تھی تو آٹھ ماہ کی حکومت لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟اگر معاملات سنبھالنا مشکل تھے تو سابق حکومت کو برقرار کیوں نہ رہنے دیا گیا؟
بلاول بھٹو زرداری نے سوال اٹھیا مہاجر نشستوں کے مسئلے کو قانون سازی کے ذریعے کیوں حل نہیں کیا گیا؟الیکشن شیڈول جاری ہونے سے قبل موجودہ صورتحال سے پارٹی قیادت کو آگاہ کیوں نہیں کیا گیا؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آزاد کشمیر کی مہاجر نشستوں کے موجودہ فارمولے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بارے میں یہ رائے سامنے آئی کہ موجودہ نظام سے پیپلز پارٹی کو سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق مہاجر نشستوں کے معاملے پر واضح اور مستقل پالیسی نہ ہونے کے باعث سیاسی پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں، جس سے آئندہ انتخابی حکمت عملی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اجلاس میں پارٹی قیادت نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض فیصلوں اور انتظامی حکمت عملی میں پیشگی مشاورت کا فقدان رہا، جس کی وجہ سے زمینی سطح پر مشکلات پیدا ہوئیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پیپلز پارٹی کے لیے ایک اہم چیلنج بنتی جا رہی ہے، اور پارٹی قیادت کی جانب سے سوالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اندرونی سطح پر پالیسی اور انتظامی فیصلوں پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ آئندہ دنوں میں آزاد کشمیر کی سیاسی حکمت عملی پر مزید اہم فیصلے متوقع ہیں۔












