لاہور( پاک ترک نیوز) جیسے جیسے گرمی بڑھتی ہے لوگ ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور جسمانی کمزوری سے بچنے کے لیے قدرتی غذاؤں کی طرف راغب ہوتے ہیں ،انہی قدرتی نعمتوں میں ایک نام ہے فالسہ۔۔ فالسہ سے کیا کیا فائدہ ہوتا ہے۔
فالسہ ایک چھوٹا سا جامنی رنگ کا پھل ہے جو ذائقے میں میٹھا اور ہلکا کھٹا ہوتا ہے۔ پاکستان اور برصغیر میں اسے گرمیوں کے موسم میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ سڑک کنارے جوس سینٹرز سے لے کر گھروں تک، فالسے کا شربت گرمی سے بچاؤ کے لیے شوق سے استعمال کیا جاتا ہے۔
فالسہ نہ صرف جسم کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے بلکہ اس کا جوس گرمی کے موسم میں فوری توانائی دینے والا قدرتی مشروب بھی مانا جاتا ہے۔ کئی افراد اسے پاکستان کا نیچرل انرجی ڈرنک اور گرمی کا سب سے طاقتور دیسی مشروب قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق فالسے میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ اس میں قدرتی منرلز اور وٹامنز بھی پائے جاتے ہیں جو جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید گرمی میں فالسے کا جوس پینے سے جسم کو فوری تازگی اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔
فالسہ جسم میں پانی کی کمی کو دورکرتا ہے ،ہیٹ اسٹروک کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ،معدے کی تیزابیت کم کرنے میں مفید ہے ،ہاضمہ بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے،قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور پھل فالسہ تھکن اور کمزوری دور کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق فالسے میں وٹامن سی اور دیگر غذائی اجزا قوتِ مدافعت بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم شوگر یا دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کو زیادہ چینی ملا کر جوس استعمال کرنے سے احتیاط کرنی چاہیے۔
شدید گرمی میں بازاروں میں فالسے کے جوس کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی کولڈ ڈرنکس کے مقابلے میں فالسے کا شربت زیادہ فائدہ مند اور قدرتی توانائی فراہم کرتا ہے۔ کئی لوگ اسے برف، کالی مرچ، نمک اور چینی کے ساتھ تیار کرتے ہیں جس سے اس کا ذائقہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر متوازن مقدار میں استعمال کیا جائے تو فالسہ اور اس کا جوس نہ صرف گرمی کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی کئی فوائد رکھتا ہے۔











