واشنگٹن (پاک ترک نیوز )امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نےکہا ہے کہ ایران نے جارحیت کا مظاہرہ کیا، ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔
پینٹاگون میں جاری بریفنگ کے دوران ہیگستھ نے کہا کہ امریکا نے آپریشن پروجیکٹ فریڈم کے تحت آبنائے ہرمز میں ایک مضبوط دفاعی حصار قائم کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے کیا گیا
امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ امریکا کے بحری جہاز خطے میں موجود ہیں، ایران سے آنے والے جہازوں کو واپس بھیج دیا گیا، ایران کے 6 جہازوں نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی، امریکی نیوی نے ایرانی جہازوں کو واپس مڑنے پر مجبور کیا، سمندری گزر گاہ کی ہم سے زیادہ دنیا کو ضرورت ہے۔
امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ ایران کا منصوبہ بین الاقوامی بھتے کی شکل ہے اور ناقابل قبول ہے، امریکا نے ہرمز میں موجودگی جاری رکھی ہے تاکہ تجارتی سرگرمیاں آزادانہ جاری رہیں، ایران نے کمرشل شپنگ پر حملے کیے تو سخت جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے گرد ناکا بندی مزید سخت کردی، امریکا دوسروں کی مدد کے لیے طاقت کا استعمال کر رہا ہے، آبنائے ہرمز کو آزاد کرنے کا منصوبہ عارضی ہے، بین الاقوامی برادری کو مداخلت کرنی چاہیے، آبنائے ہرمز میں خطرات کو کم کردیا، امریکی فوج ایران کے سمندری حدود میں داخل نہیں ہوگی۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کارروائی دفاعی اقدام ہے، لڑائی نہیں لڑنا چاہتے، ایران نے امریکی اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے تو سخت ردعمل دیا جائے گا، آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پھنسے سیکڑوں بحری جہازوں کو نکالنے کیلئے کارگو کمپنیوں سے رابطے میں ہیں، ایران تیل کی نقل اور حرکت میں رکاوٹ ڈال کر عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔امریکی جنرل ڈین کین نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، ایران کی کارروائیاں اس حد تک نہیں پہنچی کہ جنگ دوبارہ شروع کی جائے، ایران جان بوجھ کر اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنارہا ہے۔
جنرل ڈین کین نے کہا کہ ناکہ بندی میں امریکا کے 15 ہزار اہل کار حصہ لے رہے ہیں، ایران کی چھوٹی کشتیوں اور ڈرونز سے نمٹ رہے ہیں۔












