لاہور (پاک ترک نیوز ) پنجاب میں جماعت اول سے پنجم تک نصاب میں اہم تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا گیا جن کا مقصد رٹہ سسٹم کے بجائے تصورات پر مبنی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔
نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے پیکٹا کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس کی صدارت پارلیمانی سیکرٹری برائے اسکول ایجوکیشن نوشین عدنان نے کی جبکہ پیکٹا کے وائس چیئرمین موسیٰ علی بخاری بھی شریک تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر زبیدہ ضیاء الرحمٰن نے ایک کلیدی پریزنٹیشن دی، جس میں موجودہ نصاب کی صورتحال اور مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک کا خاکہ پیش کیا گیا
اتھارٹی کے مطابق اصلاحاتی اقدام کا آغاز ابتدائی طور پر جماعت اول سے پنجم تک کیا جائے گا، جو سیکھنے کے بنیادی سال ہوتے ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موجودہ طلبہ کے سیکھنے کے نتائج اس کا جامع جائزہ لے، غیر ضروری تکرار ختم کرے اور انہیں بنیادی تصوری مہارتوں کے گرد ترتیب دے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس کا مقصد مواد سے بھرپور تدریس سے ہٹ کر ایسا نصاب تشکیل دینا ہے جو طلبہ میں تنقیدی سوچ، بہتر فہم اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت پیدا کرے۔اجلاس میں مختلف تعلیمی ماہرین، پالیسی سازوں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔
پنجاب کا موجودہ پرائمری نصاب طویل عرصے سے اپنی زیادہ طوالت اور رٹہ سسٹم پر انحصار کی وجہ سے تنقید کا شکار رہا ہے، جس کے باعث اساتذہ کے لیے تصوری سمجھ اور تحقیق پر مبنی تعلیم پر توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اصلاحات ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک جامع، مختصر اور تصورات پر مبنی نصاب متعارف کرانے کی کوشش ہیں، جو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو مؤثر تدریس کے لیے زیادہ سہولت اور لچک فراہم کی جائے گی، جبکہ طلبہ کو گہری سمجھ بوجھ اور بنیادی سیکھنے کی مہارتیں حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔










