تہران ( پاک ترک نیوز) عالمی سیاست میں بڑا موڑ۔۔۔ ایران، امریکا اور خلیج کی صورتحال ایک بار پھر نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ،جنگ بندی، مذاکرات اور پابندیوں کے درمیان طاقت کا نیا کھیل شروع ہو گیا۔ کیا کوئی بڑا بریک تھرو قریب ہے یا ایک نئی جنگ سر پر منڈلا رہی ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی. ،برطانوی شاہ چارلس کے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو فوجی اور معاشی دباؤ کے ذریعے کمزور کر دیا گیا۔ ایران خود رابطہ کر کے بتا چکا ہے کہ وہ شدید دباؤ اور تباہی کی حالت میں ہے۔
دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ مکمل بند نہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے نئی تجاویز ثالثوں کے ذریعے پیش کرنے کا اشارہ دیا ہےاور شرط رکھی کہ اگر آبنائے ہرمز کھول دی جائے تو ایٹمی مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے نظرثانی شدہ تجاویز پر اپنے سپریم لیڈر سے مشاورت کے لیے چند دن مانگ لیے ہیں جس کے بعد مذاکراتی عمل میں پیش رفت متوقع ہے۔
ایرانی تجاویز مسترد کرنے کے صدر ٹرمپ کے اشارے کے بعد پاکستانی ثالثوں کو جنگ بندی کی نئی ایرانی تجاویز ملنے کا امکان ہے۔ ذرائع نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روسی دورے کے بعد آج تہران واپس پہنچیں گے۔ تہران میں عباس عراقچی تازہ صورتحال پر ایرانی حکام سے تبادلہ خیال کریں گے۔ذرائع کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای سے رابطوں میں مشکلات کے باعث تبادلہ خیال کا یہ عمل سست ہوگا۔ مجتبی خامنہ ای تاحال کسی خفیہ مقام پر ہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن کا سخت مؤقف برقرار ہے وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر کسی بھی معاہدے میں قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔امریکی صدر نے مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ جاری رکھا جائے۔
کشیدگی کے بیچ امریکی فوج بھی متحرک ہے ،امریکی سینٹکام کے مطابق بحیرہ عرب میں ایک تجارتی جہاز کو روک لیا گیا ۔ شبہ تھا کہ جہاز ایران کی طرف جا رہا ہے تاہم تلاشی کے بعد کلیئر قرار دے کر چھوڑ دیا گیا…
امریکا نے ایران پر اقتصادی شکنجہ مزید سخت کر دیا ۔ 35 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں لگا دی گئیں ، امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ نیٹ ورک ایران کے بینکاری اور تیل کے کاروبار میں اربوں ڈالر کی مدد کر رہا تھا۔امریکا نے خبردار کیا ہے کہ ایسے بینک بھی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں جو ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھیں گے خاص طور پر وہ کمپنیاں جو آبنائے ہرمز کے راستے ادائیگیاں کرتی ہیں۔
سوال یہ ہے کیا آبنائے ہرمز کھلے گا اور مذاکرات کامیاب ہوں گے یا خطہ ایک بار پھر بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے؟ آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔












