انقرہ ( پاک ترک نیوز) کیا بحیرۂ احمر اگلا جنگی میدان بننے جا رہا ہے؟کیا دنیا ایک اور بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے؟ فیصلہ آنے والے دن کریں گے۔۔۔ لیکن خطرہ واضح ہے۔
بحیرۂ احمر کے اہم تجارتی راستوں پر کنٹرول کی جنگ شدت اختیار کر گئی۔۔۔ ترکی اور اسرائیل ہارن آف افریقہ میں ایک نئی اسٹریٹجک کشمکش میں الجھ گئے ، جہاں صومالیہ اور صومالی لینڈ اہم محاذ بن کر ابھر رہے ہیں۔
ہارن آف افریقہ تیزی سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ صومالیہ اور صومالی لینڈ نہ صرف تیل و گیس کے ممکنہ ذخائر رکھتے ہیں بلکہ یہ علاقے بحیرۂ احمر کی اہم تجارتی گزرگاہوں کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے بے حد اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ہیں۔
ترکیہ نے صومالیہ کے ساتھ سمندر اور خشکی دونوں پر تیل و گیس کی تلاش کے معاہدے کیے اور وہاں اپنی فوجی موجودگی کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ ترک افواج کے اڈے اور جدید سازوسامان اس خطے میں ان کے اثر و رسوخ کو بڑھا رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے صومالی لینڈ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل وہاں ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کا مقصد یمن میں حوثی باغیوں کی نگرانی اور باب المندب آبنائے جیسے اہم بحری راستے پر نظر رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مقابلہ محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی بڑی صف بندی کا حصہ ہے۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان پہلے ہی غزہ، شام اور دیگر معاملات پر اختلافات موجود ہیں، اور اب افریقہ میں بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی ایک نئے جیو پولیٹیکل بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
صومالیہ اور صومالی لینڈ میں جاری یہ رسہ کشی دراصل توانائی، تجارت اور عسکری برتری کے حصول کی جنگ ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا بحیرۂ احمر ایک نئے عالمی تنازع کا مرکز بننے جا رہا ہے؟ اور کیا یہ کشمکش خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل دے گی؟ آنے والے دن اس صورتحال کی سمت کا تعین کریں گے۔












