تہران ( پاک ترک نیوز) آپریشن ایپک فیوری۔ ایک ایسا نام جسے طاقت، غرور اور عالمی برتری کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔ لیکن وقت نے اسے ایک ڈراؤنے خواب میں بدل دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب امریکا کی جدید ترین فضائی طاقت کو ایسا جھٹکا لگا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز ۔۔۔ ایک ایک کر کے نشانہ بنتے گئے اور دوسری جانب ایران کی دفاعی حکمت عملی سب پر بھاری پڑتی گئی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کا فخر سمجھے جانے والا F-35 بھی اس جنگ میں محفوظ نہ رہ سکا۔ F-15 جیسے مہنگے جنگی طیارے تباہ ہوئے، جبکہ A-10 تھنڈر بولٹ جیسے طاقتور حملہ آور جہاز بھی ایرانی میزائلوں کا شکار بن گئے۔
اور پھر وہ لمحہ جس نے سب کو حیران کر دیا سعودی عرب کے ایک ایئر بیس پر کھڑا جدید AWACS "ایکواکس ” طیارہ لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
صرف یہی نہیں، 17 جدید MQ-9 ڈرونز بھی تباہ کر دیے گئے، جبکہ ریسکیو مشنز کے لیے بھیجے گئے ہیلی کاپٹرز اور C-130 طیارے بھی اس جنگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ کچھ طیارے تو ایسے تھے جنہیں امریکا کو خود تباہ کرنا پڑا تاکہ راز دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ اربوں ڈالر کا نقصان اور اس سے بھی بڑا نقصان سپر پاور کا غرور چکنا چور۔ سوال یہ ہے: "کیا واقعی ایران نے میدان مار لیا؟ یا یہ صرف ایک جنگ نہیں بلکہ طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے؟












