منگل , 21 اپریل , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
ADVERTISEMENT
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

9 مہینے پہلے
A A
اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان
Share on Facebookwhatsapp

کراچی(پاک ترک نیوز) سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی ریٹ 11 فیصد کی موجودہ سطح پر برقرار رہے گی، گزشتہ مالی سال اوسط افراط زر 4.5 فیصد رہا جبکہ سال شرح سود اسٹیٹ بینک اور حکومت کی توقع پانچ سے سات فیصد سے کم رہا۔
گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ فوڈ انفلیشن اور کور انفلیشن میں گزشتہ مالی سال نمایاں کمی آئی، کور انفلیشن 7.2 فیصد پر رہا اور جون میں افراط زر 3.2 فیصد رہا۔ اپریل میں افراط زر 0.3 فیصد پر آکر مئی اور جون میں اضافہ ہوا، رواں مالی سال کے شروع میں افراط زر میں اضافہ کم اور آگے چل کر زیادہ رہے گا۔
گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں ردوبدل سے بھی افراط زر پر اثر پڑے گا، مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ایکسٹرنل اکاؤنٹ کا گہرائی سے جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ امپورٹ میں گزشتہ مالی سال نمو رہی، امپورٹ 53 ارب ڈالر سے بڑھ کر 59 ارب ڈالر رہی جو 11 فیصد زائد ہے۔ نان آئل امپورٹس میں 16 فیصد اضافہ ہوا اور معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے نان آئل امپورٹ میں اضافہ ہوا۔
گورنر نے کہا کہ ترسیلات اور ایکسپورٹ میں بھی اضافہ ہوا، ایکسپورٹ کا اضافہ 4 فیصد تک محدود رہا، خسارے پر قابو پانے کے لیے ایکسپورٹ میں اضافہ ضروری ہے۔ گزشتہ مالی سال ترسیلات میں 8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، ترسیلات اب قانونی اور باضابطہ طریقوں سے آرہی ہے، ترسیلات بڑھنے سے کرنٹ اکاؤنٹ فاضل رہا۔
انہوں نے کہا کہ سال 2022 میں جاری کھاتے کا خسارہ 17.5 ارب ڈالر تھا اور 2023 میں جی ڈی پی کا ایک فیصد 2024 میں نصف فیصد رہا، اس سال جاری کھاتہ 14 سال بعد سرپلس رہا جو کہ 22 سال کا بلند ترین سرپلس رہا۔
گورنر نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے انٹر بینک مارکیٹ میں بھی سرگرمیاں کیں جس سے شرح مبادلہ بہتر رہی، قرضوں کی ادائیگی کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک سال کے دوران 5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، گزشتہ سال 26 ارب ڈالر کی بیرونی قرضوں میں سے 10 ارب ڈالر کی ری پے منٹس کی گئیں۔ امپورٹ اور زرمبادلہ کی تمام ضروریات کو بینکنگ سیکٹر نے پورا کیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ گزشتہ مالی سال معاشی نمو 2.7 فیصد رہی اور زرعی شعبے میں سست نمو سے معاشی ترقی کی رفتار کم رہی، البتہ صنعتی سرگرمیاں بہتر رہیں اور خدمات کے شعبے نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ رواں مالی سال زرعی شعبے میں بہتری کی امید ہے جس سے معاشی نمو بھی بہتر رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال افراط زر کا ہدف وسط مدتی 5 سے 7 فیصد کی رینج میں رہے گا، افراط زر میں اضافہ کی توقع ہے اس کے باوجود وسط مدت ہدف حاصل کریں گے۔ کچھ مہینوں میں افراط زر 7 فیصد سے زائد رہے گی تاہم اوسط 5 سے 7 فیصد رہے گا، کور انفلیشن میں کمی آرہی ہے جو آگے جاکر بڑھے گا۔
گورنر نے کہا کہ گزشتہ مالی سال جاری کھاتا سرپلس رہا اور اس سال امپورٹ میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے جاری کھاتے پر اثر پڑے گا، رواں مالی سال جاری کھاتے کو جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد خسارے کا سامنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ترسیلات، امپورٹ اور ایکسپورٹ کی کارکردگی پر منحصر ہے کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کیا رہے گا۔ رواں مالی سال ترسیلات زر 40 ارب ڈالر سے زائد رہنے کی توقع ہے جبکہ معاشی ترقی کی شرح نمو رواں مالی سال 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہے گی اور معاشی نمو میں زراعت کا حصہ 0.6 فیصد سے بڑھے گا۔
گورنر کا کہنا تھا کہ بڑی فصلوں کو بارشوں اور پانی کی دستیابی سے فائدہ ہوگا جبکہ زراعت کی کارکردگی گزشتہ سال سے بہتر لیکن 2024 سے کم رہے گی۔ صنعتی شعبے اور خدمات کی کارکردگی بھی بہتر رہنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبادی کی شرح نمو کے لحاظ سے معاشی نمو کو بھی زیادہ اور تیز ہونا ضروری ہے، پائیدار معاشی نمو کے لیے ایکسپورٹ میں اضافہ کرنا ہوگا۔ پائیدار معاشی نمو اور ایکسپورٹ سے بیرونی اکاؤنٹ پر ہر تین چار سال آنے والا دباؤ بھی کم ہوگا۔
گورنر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی نگرانی میں زرعی قرضوں کی فراہمی بنانے کا پروگرام ترتیب دیا جا رہا ہے اور کمرشل اسپیشل بینکوں کے ساتھ مائکرو فنانس بینکوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔ زراعت کے شعبے کی شرح نمو ڈھائی فیصد تک رہنے کی امید ہے
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ رواں مالی سال 25.9 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کرنا ہوں گے جبکہ قرضوں کی ادائیگی گزشتہ مالی سال سے قدرے کم رہے گی، گزشتہ مالی سال بھی 26 ارب ڈالر کے قرضے سیٹل کیے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ 16 ارب ڈالر کے قرضے رول اوور ہوں گے اور 10 ارب ڈالر ہمیں ادا کرنا ہوگا، 22 ارب ڈالر کے پرنسپل قرضے اور 4 ارب ڈالر کی سودی ادائیگیاں شامل ہیں۔ جون 2022 میں مجموعی پبلک قرضہ 100 ارب ڈالر تھا اور تین سال سے بیرونی قرضے اسی سطح پر برقرار ہیں، نئے قرضے لیتے ہیں لیکن پچھلے قرضے ادا کرتے ہیں۔
گورنر نے کہا کہ 2015 سے 2022 کے دوران 7 سال کے دوران سالانہ 6 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا لیکن گزشتہ تین سال میں اضافہ نہیں ہوا، 2022 میں 43 فیصد قرضہ عالمی ترقیاتی اداروں سے طویل مدتی اور سستا قرضہ لیا، ملٹی لٹرل طویل مدتی سستے قرضوں کا تناسب 50 فیصد سے زائد ہے۔
انہوں نے کہا کہ سودی ادائیگیاں کم ہو رہی ہیں، بین الاقوامی مارکیٹ میں شرح سود 2 فیصد سے بڑھ کر 4.25 فیصد تک آگیا لیکن اس کے باوجود پاکستان کی سودی ادائیگیاں کم ہوئی ہیں، نئے قرضوں پر کم سود ادا کر رہے ہیں جبکہ قرضوں کی مدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
گورنر نے کہا کہ بیرونی قرضوں کی پائیداری اور پاکستان کی قرضہ ادا کرنے کی صلاحیت بڑھ رہی ہے، بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اسی وجہ سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو اَپ گریڈ کر دیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر سے زائد ہیں جو اس سال کے قرضوں سے زائد ہے۔
انہوں نے کہ اکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کے تین بانڈز پریمیئم پر ٹریڈ ہو رہے ہیں اور عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی معیشت پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ گلوبل مارکیٹ میں پاکستانی بانڈز پریمیئم پر ٹریڈ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری قرضہ لینے اور واجبات کی ادائیگی کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے، اس وقت صورتحال انٹرنیشنل مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کے لیے سازگار ہے۔
گورنر نے کہا کہ حکومت پانڈہ بانڈ پر کام کر رہی ہے، اس سال کے دوران دو بانڈز ستمبر میں 500 ملین اور آئندہ سال اپریل میں 1.3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز میچور ہو رہے ہیں، 1.8 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے ساتھ 10 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کریں گے۔ چھ ماہ قبل تک دنیا کے مرکزی بینکوں کا طرز عمل کچھ اور تھا، دنیا کے مرکزی بینکوں نے محتاط طرز عمل اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہ اکہ اسٹیٹ بینک ڈیجیٹل کرنسی پر کام کر رہا ہے اور ایک آزمائشی پروجیکٹ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس پر کام جاری ہے، حکومت نے کرپٹو سے متعلق قانون بھی بنا دیا ہے اور اس حوالے سے کونسل بنائی جا رہی ہے۔ جس طرح بہت سارے ممالک کے اسٹیٹ بینک ڈیجیٹل کرنسی پر پائلٹ پروجیکٹ کر رہے ہیں ہم بھی اسی طرح کریں گے۔
گورنر نے کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن منتخب کر لیا جس کے لیے بین الاقوامی ڈیزائنر کی مدد حاصل کرلی ہیں، کابینہ کی منظوری کے بعد نئے ڈیزائن کے نوٹوں پر کام شروع کر دیں گے۔
گورنر نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر تک 15.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے اس لیے زرمبادلہ کے لیے جون 2026 کا ہدف 17.5 ارب ڈالر رکھا ہے۔ یورو بانڈز جاری کیے تو ذخائر اس سطح سے بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انٹر بینک اور ایکس چینج کمپنیوں کے ساتھ ملک میں غیر قانونی مارکیٹ بھی موجود ہے۔ اسٹیٹ بینک 2 قانونی مارکیٹس کو ریگولیٹ اور مانیٹر کرتا ہے۔ اوپن مارکیٹ اسٹیٹ بینک کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی اس کی سرگرمیوں کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کنٹرول کرتے ہیں۔
جمیل احمد نے بتایا کہ انٹر بینک اور ایکس چینج کمپنیوں کو فعال طریقے سے دیکھتے ہیں ضرورت پڑنے پر فوری مداخلت کرتے ہیں، غیر قانونی مارکیٹ سے متعلق کوئی اطلاع ہوتی ہے تو سیکیورٹی اداروں کو دیتے ہیں۔ گولڈ کی اسمگلنگ کو حکومتی سطح پر کنٹرول کیا جائے گا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ترسیلات سے متعلق پالیسی اقدامات کیے جائیں گے اور حکومت ترسیلات کی معاون اسکیم کو جاری رکھے گی، قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کریں گے۔

موضوعات : interstrratekarachistatebank
ShareSend

متعلقہ خبریں

ای وی بس کا منصوبہ کسی صوبے میں نہیں ،شرجیل میمن
اہم ترین 3

ای وی بس کا منصوبہ کسی صوبے میں نہیں ،شرجیل میمن

17 اپریل , 2026
کراچی ،دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام
اہم ترین 3

کراچی ،دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام

17 اپریل , 2026
کراچی میں گرمی بڑھ گئی
اہم ترین 3

کراچی میں گرمی بڑھ گئی

13 اپریل , 2026
جنگ بندی کے بعد پہلا جہاز کراچی بندرگاہ پر لنگر انداز
تازہ ترین

جنگ بندی کے بعد پہلا جہاز کراچی بندرگاہ پر لنگر انداز

11 اپریل , 2026
کراچی سٹی کونسل میں ارکان گتھم گتھا
اہم ترین 2

کراچی سٹی کونسل میں ارکان گتھم گتھا

10 اپریل , 2026
Markets in Sindh to close at 8pm, announcement made
تازہ ترین

سندھ میں مارکیٹیں رات 8بجے بند ،اعلان ہو گیا

10 اپریل , 2026
اگلی خبر
پاکستان کا جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ چین سے لانچ کر دیا گیا

پاکستان کا جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ چین سے لانچ کر دیا گیا

یہ بھی پڑھیں

ڈیل نہ ہوئی تو بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے ،ڈونلڈ ٹرمپ

ڈیل نہ ہوئی تو بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے ،ڈونلڈ ٹرمپ

20 اپریل , 2026
  اسحاق ڈار کا ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ

  اسحاق ڈار کا ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ

20 اپریل , 2026
وزیراعظم شہبازشریف سے یورپی کونسل کے صدر کا رابطہ

وزیراعظم شہبازشریف سے یورپی کونسل کے صدر کا رابطہ

20 اپریل , 2026
امریکی صدر کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور، امریکی وفد پاکستان پہنچ رہا ہے ،ٹرمپ

امریکی صدر کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور، امریکی وفد پاکستان پہنچ رہا ہے ،ٹرمپ

20 اپریل , 2026
امریکا نے ایرانی جہاز پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی

امریکا نے ایرانی جہاز پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی

20 اپریل , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔