تہران ( پاک ترک نیوز)
ایران کے جوہری پروگرام کے عالمی سطح پر سامنے آنے کو دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اور تہران ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کے عزائم پُرامن ہیں اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اُس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک فتویٰ بھی جاری کیا تھا، جس میں اسلامی قانون کے تحت جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔
تاہم حالیہ حالات کے بعد صورتحال میں ممکنہ تبدیلی پر بات کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے ایران کے اندر اس فتویٰ پر نظرثانی کی بحث کو تقویت مل سکتی ہے، اور عوامی و اشرافیہ سطح پر اس موضوع پر گفتگو میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے طویل عرصے تک دباؤ کے باوجود اسٹریٹیجک صبر کا مظاہرہ کیا۔ 2018 میں امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے باوجود ایران نے فوری طور پر سخت ردعمل نہیں دیا، بلکہ بتدریج اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھایا، تاہم ہتھیار بنانے کی حد سے گریز کیا۔ اس حکمت عملی کو بعض تجزیہ کار محتاط اور حسابی قرار دیتے ہیں۔
اگرچہ ایران نے باضابطہ طور پر اپنی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی ظاہر نہیں کی، لیکن اس کے پاس اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم موجود ہے، جو نظریاتی طور پر اسے جوہری صلاحیت کے قریب لے جاتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی سمت کا تعین ایران کی قیادت اور پالیسی فیصلوں پر منحصر رہے گا۔












