تہران ( پاک ترک نیوز) ایران ڈٹ گیا ،امریکا پیچھے ہٹ گیا ۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران امریکا نے بڑا یو ٹرن لے لیا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پراجیکٹ فریڈم عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ۔
سوشل میڈیا پر بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا،پراجیکٹ فریڈم عارضی روکا تاکہ دیکھیں کہ ڈیل ہو سکتی ہے یا نہیں،اس دوران آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ العمل رہے گی،پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا، اس دوران امریکا دیکھے گا کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے یا نہیں اور اس پر دستخط ہوتے ہیں یا نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران کے ساتھ مکمل اور حتمی معاہدے کیلئے بڑی پیشرفت ہوئی ہے، ، ،ایران سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے، امریکہ نےایران کو بری طرح شکست دی ہے، ہم ایران کوجوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے،ایران آبنائے ہرمز میں مجرمانہ اقدامات کر رہا ہے، ایران کو آبنائے ہرمز کنڑول کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،پریس کانفرنس کرتے ہوئے مارکو روبیو نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کی حقیقت کو تسلیم کرے اور مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ کہا ،ایران کو ایسے معاہدے کو قبول کرنا ہوگا جو نہ صرف اس کے اپنے مفاد میں ہو بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی فائدہ مند ہو۔
دوسری طرف ایران کا بھی سخت رد عمل سامنے آیا ہے ،ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہناہےہم مسلمان تو پہلے ہی خدا کے سامنے سر جھکا چکے ،اب کوئی اور ہمیں جھکا نہیں سکتا،امریکا کی جانب سے ایران سے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے ۔عراقی وزیراعظم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایرانی صدر نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ امریکی حکام خطے کو فوجی دھمکیاں دینا بند کر دیں۔اس سے قبل ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ اخلاق کے بغیر طاقت کھوکھلی ہے،،،ایران خود کو بااخلاق اور ذمہ دار طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے جبکہ ایران کے مخالفین بے لگام اور غیر ذمہ دار قوت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔
ادھر یران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران جہازوں کی آمد و رفت کو منظم کرنے کیلئے ایک نیا طریقہ کار متعارف کروایا۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس نظام کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہش مند جہازوں کو فارسی خلیج سٹریٹ اتھارٹی سے منسلک ایک ای میل ایڈریس سے پیغام موصول ہوگا جس میں آمد و رفت کے قواعد و ضوابط سے آگاہ کیا جائے گا۔اس کے بعد جہازوں کو ان ضوابط پر عمل کرنا لازم ہوگا، جس کے بعد ہی انہیں گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق مارکو روبیو کا بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن ابھی بھی تہران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے ، عارضی وقفہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے، تاہم صورتحال اب بھی نہایت حساس ہے اور کسی بھی وقت نیا موڑ لے سکتی ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشمکش میں یہ عارضی نرمی کیا مستقل معاہدے میں بدلے گی یا ایک نئے بحران کا پیش خیمہ بنے گی۔فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔












