لاہور( پاک ترک نیوز) پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوام کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا ۔جہاں پہلے صرف ٹینکی فل کروانا مشکل تھا، اب گاڑی یا موٹر سائیکل خریدنا بھی خواب بنتا جا رہا ہے۔ پٹرول مہنگا ہوا تو کیا صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی مہنگی ہو جائیں گی؟
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات آٹو موبائل مارکیٹ تک بھی پہنچتے ہیں۔ عام شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہیں، استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ میں بھی ہلچل مچ گئی ہے،سستی سواری کی تلاش میں عوام ادھر کا رخ کر رہے ہیں، مگر وہاں بھی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پٹرول مہنگا ہونے سے سب سے پہلے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ڈیمانڈ کم ہو جاتی ہے۔لوگ نئی گاڑیاں خریدنے کے بجائے پرانی گاڑیوں یا موٹر سائیکلوں پر انحصار بڑھا دیتے ہیں۔
جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو نہ صرف خریداری کم ہوتی ہے بلکہ مینوفیکچرنگ اور ڈلیوری کی لاگت بھی بڑھتی ہے، جس کا اثر براہِ راست قیمتوں پر پڑتا ہے۔ مہنگے ایندھن کے باعث ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس سے گاڑیوں اور بائیکس کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کمپنیاں اپنی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
مہنگے پٹرول کے باعث عوام کا رجحان چھوٹی گاڑیوں اور کم فیول استعمال کرنے والی موٹر سائیکلوں کی طرف بڑھ جاتا ہے، جبکہ بڑی گاڑیوں کی فروخت متاثر ہوتی ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق یہ صرف شروعات ہے، اگر پٹرول اسی طرح مہنگا ہوتا رہا تو گاڑیاں اور بائیکس مزید عوام کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی
ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حالیہ مہنگائی کے بعد شو رومز میں گاہکوں کی تعداد کم ہوئی ہے، جبکہ بینک فنانسنگ بھی متاثر ہو رہی ہے۔
نئی گاڑیوں اور بائیکس کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے فروخت میں نمایاں کمی ہو رہی ہے ،چھوٹی اور کم فیول خرچ گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہو گیا












