
از: سہیل شہریار
امریکی حکومت دیوالیہ ہو چکی ہے۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے۔بلکہ امریکی محکمہ خزانہ کے اپنے مالی سال 2025 کے مالیاتی اعداد و شمار سے براہ راست اخذ کیا گیا نتیجہ ہےجو گزشتہ ہفتے تقریباًمکمل خاموشی سے جاری کئے گئے تھے۔
اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ مالی سال میں ستمبر 2025 کے اختتام تک امریکی حکومت کے ذمہ کل واجبات 477.8 کھرب ڈالر کے مقابلے میں اسکے کل اثاثوںکی مالیت60.6 کھرب ڈالر تھی۔اہم بات یہ ہے کہ 477.8 کھرب ڈالر کی رپورٹ شدہ ذمہ داریوں میں سوشل انشورنس پروگراموں جیسے سوشل سیکورٹی اور میڈی کیئر کی غیر فنڈ شدہ ذمہ داریاں شامل نہیں ہیں ۔ جن کا انکشاف آف بیلنس شیٹ اسٹیٹمنٹ آف سوشل انشورنس (ایس او ایس آئی) میں کیا گیا ہے۔
امریکی حکومت کی مستحکم بیلنس شیٹ کی پوزیشن ایس او ایس آئی کو چھوڑ کر مالی سال 2024 اور مالی سال 2025 کے درمیان تقریباً 20.7 کھرب ڈالر کی کمی ظاہرکر تی جو منفی417.2 کھرب ڈالر کی حیران کن سطح تک پہنچ گئی ہے۔ چنانچہ کل واجبات اب رپورٹ کردہ اثاثوں کی مالیت سے تقریباً آٹھ گنا ہو گئے ہیں۔ حکومتی واجبات میں اضافے کی سب سے بڑی وجوہات میں وفاقی قرضوں اور قابل ادائیگی سود میںسال کے دوران 20 کھرب ڈالر کا اضافہ ہے جو اب 323.3 کھرب ڈالرپر پہنچ چکے ہیں۔ اور وفاقی ملازمین کی مراعات میں 438.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہے۔ اور یہ اب 160کھرب ڈالرسے تجاوز کر گئے ہیں۔
بیلنس شیٹ سے باہر کی تصویر اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ 75 سالہ غیر فنڈڈ سوشل انشورنس ذمہ داری میں ایک سال میں 101 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا جو مالی سال 2024 میں783 کھرب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں884 کھرب ڈالر ہو گئی ہے ۔ امریکی محکمہ خزانہ کی طویل مدتی مالی تخمینوں کی سٹیٹمنٹ ظاہر کرتی ہے کہ 75 سالہ مالیاتی فرق مالی سال 2024 میں جی ڈی پی کے 4.3 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 4.7 فیصد ہو گیا ہے۔
اب اگر 75 سالہ آف بیلنس شیٹ ذمہ داریوں کے 884 کھرب ڈالر کو سرکاری بیلنس شیٹ کے478 کھرب ڈالر واجبات میں شامل کیا جائے تو کل قابل ادائیگی واجبات1362 کھرب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے جو امریکی سالانہ جی ڈی پی سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی حکومت کےگورنمنٹ اکاونٹیبلٹی آفس (جی اے او) نے امریکی حکومت کے 2025 کے مالیاتی گوشواروں کے بارے میں ایک بار پھر تردید جاری کی ہے۔ اور یہ مسلسل 29ویں سال اس بات کا تعین کرنے سے قاصر رہا ہے کہ آیا حکومتی گوشوارے مناسب طریقے سے پیش کیے گئے ہیں یا نہیں۔ جبکہ یہ بنیادی طور پر امریکی محکمہ دفاع میں مالیاتی انتظام کے سنگین مسائل اور انٹرایجنسی لین دین کے حساب کتاب میں کمزوریوں کی وجہ سے ہے۔












