نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) بھارتی وزیر خارجہ کی طرف سے پاکستان سے متعلق گھٹیا، بازاری اور غیرسفارتی زبان کا استعمال کیا گیا ۔
جے شنکر کی اپنی سفارتی ناکامی چھپانے کے لیے غیر پارلیمانی اور توہین آمیز گفتگو گھٹیا ذہنیت کی عکاس ہے ۔
سفارتی اجلاس میں "بازاری الفاظ” کا استعمال بھارت کی شدید سفارتی مایوسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا کھلا اعتراف ہے ۔۔آل پارٹیز اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ نے کہا پاکستان کی ثالثی کی کوششوں میں کچھ نیا نہیں ہے، اس ملک کو 1981 سے امریکا استعمال کر رہا ہے۔
ادھر بھارتی کی اپنی خارجہ پالیسی پر بھارت کے اندر سے شدید تنقید کی جا رہی ہے،بھارتی اپوزیشن نے مودی حکومت کی اسرائیل کے ساتھ دوستی پر زور دے کر تاریخی بزدلی اور نظریاتی دھوکہ قرار دے دیا۔












