تہران (پاک ترک نیوز) ایران میں قیادت کا خلا، خطے میں ہلچل، دنیا کی نظریں نئی قیادت پر جم گئیں… کیا تہران اب بھی واشنگٹن کے سامنے ڈٹ سکے گا؟کیا ایران کی مرکزی قیادت کی شہادت کے بعد نئی قیادت امریکا کا مقابلہ کر پائے گی؟
ایران کی اعلیٰ قیادت کی شہادت کے بعد ملک ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ داخلی طور پر قیادت کی منتقلی کا عمل شروع ہو چکا ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا نئی قیادت سابقہ پالیسیوں کو برقرار رکھ پائے گی یا کسی نئی حکمت عملی کا انتخاب کرے گی۔
ماہرین کے مطابق ایران کا نظام صرف ایک شخصیت پر نہیں بلکہ ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے پر قائم ہے۔ سپریم لیڈر، پاسدارانِ انقلاب اور سیکیورٹی ادارے مل کر پالیسی سازی کرتے ہیں، جس کی وجہ سے فوری کمزوری کا امکان کم سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے ساتھ کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ نئی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ داخلی استحکام برقرار رکھتے ہوئے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرے۔ اگر ایران نے سخت مؤقف اپنایا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ مفاہمت کی پالیسی اپنانے سے وقتی سکون آ سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے علی لاریجانی کی شہادت سے نظام متاثر نہیں ہو گا،ایران کا نظام مضبوط ہے ،شخصیات کے جانے سے کمزور نہیں ہوتا ،نظام میں ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق کردار ادا کرتا ہے،امریکا اور اسرائیل کیوں نہیں سمجھتے کہ اس سے ایران کمزور نہیں ہو گا۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی عسکری اور اسٹریٹجک صلاحیتیں بدستور موجود ہیں، تاہم قیادت کا تجربہ اور فیصلہ سازی کا انداز آنے والے دنوں میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ایران کی نئی قیادت کے لیے یہ ایک کڑا امتحان ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا تہران اپنی پرانی طاقت برقرار رکھ پائے گا یا خطے میں طاقت کا توازن بدلنے والا ہے؟












