اسلام آباد (پاک ترک نیوز) تکنیکی بنیادوں پر کسی سائل کے لیے انصاف کے دروازے بند نہیں کیے جا سکتے۔
عدالت کی اپنی کارروائی یا غلطی کا خمیازہ کسی بھی شہری کو نہیں بھگتنا چاہیئے ، سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کا حکم کالعدم قرار دے دیا ، درخواست گزار کی خارج شدہ اپیل کو دوبارہ بحال کرنے کا حکم دے دیا گیا ۔
جسٹس شاہد بلال حسن کے تحریری فیصلے میں کہا گیا اگر کیس باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر نہ ہو تو اسے وکیل کی غیر حاضری پر خارج نہیں کیا جا سکتا،ریکارڈ کے مطابق جس دن کیس خارج ہوا۔
اس دن عدالت نے صرف نوٹس بھیجنے کی کارروائی کرنی تھی، سپریم کورٹ نے غیر تسلی بخش رویے اور دوسرے فریق کی مشکلات کے ازالے کے لیے درخواست گزار پر بھی 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا ،جرمانے کی رقم پہلی سماعت پر دوسرے فریق کو لازمی ادا کرنی ہوگی۔












