بیجنگ ( پاک ترک نیوز) دنیا کو حیران کرنے کا دعویٰ کرنے والا چین خود ایک بڑے دفاعی سوال سے دوچار ہے ۔دس سال سے تیار ہونے والا جدید خفیہ بمبار طیارہ ایچ 20 آخر کہاں ہے؟ نہ پہلی آزمائشی پرواز کی تصدیق، نہ عملی تعیناتی کی خبر! دوسری جانب امریکا بی 2 کے بعد جدید بی 21 کی تیاری میں آگے بڑھ رہا ہے۔ کیا چین خفیہ طیاروں کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا، یا ایچ 20 کے پیچھے کوئی ایسی کہانی ہے جو ابھی دنیا کے سامنے نہیں آئی؟
تصور کیجیے، ایک ایسا بمبار طیارہ جو دشمن کے ریڈار کو چکمہ دے، ہزاروں کلومیٹر دور تک حملہ کرے اور مخالف دفاعی نظام کے لیے اسے روکنا مشکل بنا دے! چین نے اسی خواب کو حقیقت بنانے کے لیے 2016 میں ایچ 20 منصوبہ شروع کیا، لیکن 2026 آ گیا، اور اس کی پہلی آزمائشی پرواز کی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی!یہی ہے چین کے جدید ترین خفیہ بمبار منصوبے کا سب سے بڑا سوال امریکا نے ایف 117 سے بی 2 اور پھر بی 21 تک خفیہ طیاروں کی تیاری میں کئی دہائیوں کا تجربہ حاصل کیا۔ بی 2 مختلف جنگی کارروائیوں میں استعمال بھی ہوا، جبکہ اسی تجربے سے نئی نسل کے طیاروں کو بہتر بنانے میں مدد ملی۔لیکن چین کے لیے مسئلہ صرف ایک طیارہ بنانے کا نہیں! ریڈار سے بچنے والی ساخت، خصوصی مواد، انجن کی حرارت چھپانے کی صلاحیت، دیکھ بھال اور جنگی حکمت عملی—یہ سب مل کر ایک مؤثر خفیہ بمبار طیارہ بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عازمین حج و عمرہ کے لیے ویکسین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیاں، وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم
دفاعی تجزیہ کار کیلب لارسن کے مطابق، امریکا اور چین کے درمیان اصل فرق صرف ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ کئی دہائیوں کا عملی تجربہ بھی ہے۔ تو کیا چین کا ایچ 20 منصوبہ مشکلات کے ایسے چکر میں پھنس چکا ہے جہاں سے نکلنا آسان نہیں؟ یا بیجنگ اپنے سب سے خفیہ جنگی طیارے کی معلومات دنیا سے چھپا رہا ہے؟












