
از: سہیل شہریار
اسرائیل کے قطر کے دار الحکومت دوحہ میں حماس کے اعلیٰ رہنماؤں پر فضائی حملہ کی ساری واردات میں ایک بات نمایاں تھی کہ خفیہ ایجنسی موسادکا اس سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔
امریکی سیکورٹی اداروں کی رپورٹ کے مطابق موساد نے اس منصوبے کی مخالفت کی تھی جس کے تحت پہلے زمینی ایجنٹوں کو استعمال کر کے حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔
رپورٹ کے مطابق موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے اس منصوبے کی مخالفت کی کیونکہ اس سے قطر کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو سکتے تھے جو جنگ بندی کی بات چیت میں اہم ثالث ہے۔ موساد کی ہچکچاہٹ کے باعث اسرائیلی انتہا پسند قیادت نے دوسرا راستہ اپنایا اور پندرہ لڑاکا طیاروں سے دس میزائل داغ دئیے۔
https://www.youtube.com/watch?v=6u-Tics5ZgY&t=1s
تاہم یہ حملہ بری طرح ناکام ہوا اور حماس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اس کے بڑے رہنما بشمول تنظیم کے نائب سربراہ خلیل الحیہ محفوظ رہے۔ اسرائیلی حکام نےاگرچہ حملے کے نتائج پر کھل کر تبصرہ نہیں کیا لیکن اندرونی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے کہ کارروائی مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کر سکی۔
یاد رہے گزشتہ برس موساد تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو بم دھماکے میںشہید کر چکی ہے۔ مگر اس بار موساد نے قطر میں ایسی کارروائی سے انکار کر دیا۔ اس کا موقف تھا کہ قطر ثالثی کے لیے نا گزیر ہے۔
کئی اسرائیلی عہدے داروں نے اس کارروائی کے وقت پر سوال اٹھائے کیونکہ اس دوران حماس رہنما قطر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی تجویز پر غور کر رہے تھے۔ ایک اسرائیلی اہل کار نے کہا "ہم ان کو ایک سال یا چار سال بعد بھی مار سکتے ہیں، تو ابھی کیوں؟”
دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو مذاکرات سے مایوس ہو چکے ہیں اور ممکن ہے کہ انھوں نے یہ حملہ اس لیے کیا تاکہ براہِ راست غزہ پر بڑے زمینی حملے کی طرف بڑھ سکیں۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سکیورٹی اداروں میں اس حملے پر تقسیم بھی سامنے آئی۔ آرمی چیف ایال زامیر اور قیدیوں سے متعلق مذاکرات کے انچارج نیتسان الون نے اس کی مخالفت کی۔ جبکہ وزیر دفاع یسرائیل کاتز اور وزیر تزویراتی امور رون ڈیرمر نے حمایت کی۔ بتایا گیا کہ الون کو پیر کو ہونے والے اجلاس میں بلایا ہی نہیں گیا تاکہ وہ مخالفت نہ کر سکیں۔












