لاہور( پاک ترک نیوز) بادل برسنا معمول کی بات ہے، لیکن جب چند منٹوں یا ایک گھنٹے کے اندر اتنی بارش ہو جائے جتنی کئی دنوں میں بھی نہیں ہوتی تو اسے کلاؤڈ برسٹ کہا جاتا ہے۔ یہی قدرتی مظہر پل بھر میں بستیاں اجاڑ دیتا ہے، دریا بپھر جاتے ہیں، پہاڑ کھسک جاتے ہیں اور سیکڑوں جانیں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ آخر کلاؤڈ برسٹ ہوتا کیا ہے، یہ کیوں ہوتا ہے، اور پاکستان سمیت دنیا میں اس نے کب کب تباہی مچائی؟ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
کلاؤڈ برسٹ یا بادل پھٹنا دراصل انتہائی شدید اور محدود علاقے میں ہونے والی بارش کو کہا جاتا ہے۔ماہرین موسمیات کے مطابق اگر تقریباً ایک گھنٹے میں 100 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش کسی چھوٹے سے علاقے میں ہو جائے تو اسے کلاؤڈ برسٹ قرار دیا جاتا ہے۔
عام بارش کئی گھنٹوں یا کئی دنوں تک جاری رہتی ہے، لیکن کلاؤڈ برسٹ چند منٹوں میں ہی اتنا پانی برسا دیتا ہے کہ نکاسیٔ آب کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے۔
کلاؤڈ برسٹ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب گرم اور نمی سے بھرپور ہوا تیزی سے اوپر اٹھتی ہے اور پہاڑی علاقوں سے ٹکرا کر اچانک ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔
بادلوں کے اندر پانی کی مقدار مسلسل بڑھتی رہتی ہے، لیکن جب بادل مزید پانی سنبھالنے کے قابل نہیں رہتے تو وہ ایک ساتھ بڑی مقدار میں پانی زمین پر گرا دیتے ہیں۔ یہی کیفیت کلاؤڈ برسٹ کہلاتی ہے۔ پہاڑی علاقے، مون سون کی نمی اور غیر مستحکم فضائی حالات اس عمل کو مزید شدت دیتے ہیں۔
کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں اچانک سیلاب آتا ہے ،لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے،گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ ہوتا ،پل، سڑکیں اور مکانات بہہ جانا،فصلوں کی تباہی،بجلی اور مواصلاتی نظام کی بندش،انسانی جانوں کا ضیاع جیسے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
چونکہ یہ چند منٹوں میں وقوع پذیر ہوتا ہے، اس لیے اس کی درست پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں کلاؤڈ برسٹ کے زیادہ تر واقعات شمالی اور پہاڑی علاقوں میں پیش آتے ہیں۔گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، سوات، چترال، دیر، بونیر، کوہستان اور ہنزہ ایسے علاقے ہیں جہاں مون سون کے دوران یہ خطرہ زیادہ رہتا ہے۔
2010 کے تباہ کن سیلاب، 2014 کے شمالی علاقوں کے شدید سیلاب اور بعد کے برسوں میں کئی مقامات پر شدید بارشوں اور فلیش فلڈز میں کلاؤڈ برسٹ جیسے موسمی عوامل نے اہم کردار ادا کیا۔
2013 میں اتراکھنڈ کے کیدارناتھ میں کلاؤڈ برسٹ اور شدید بارشوں نے خوفناک تباہی مچائی، جس میں چھ ہزار سے زائد افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔
ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور لداخ میں بھی متعدد بار کلاؤڈ برسٹ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔حالیہ دنوں میں پہلگام، جموں و کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث فلیش فلڈز آئے، جن سے ہوٹل، سڑکیں اور متعدد دیہات متاثر ہوئے۔
چین کے پہاڑی علاقوں میں بھی شدید بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں بارہا لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب آتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سمیت کئی جگہ بادلوں کی دھواں دھار انٹری
ہمالیہ کے دامن میں واقع نیپال ہر سال مون سون کے دوران کلاؤڈ برسٹ، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈز سے متاثر ہوتا ہے۔
امریکہ اور یورپ میں اسے کلاؤڈ برسٹ کے بجائے شدید مقامی بارش یا فلیش فلڈ ایونٹ کہا جاتا ہے، تاہم الپس، راکی ماؤنٹینز اور دیگر پہاڑی علاقوں میں اس نوعیت کی موسمی صورتحال دیکھی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث فضا پہلے سے زیادہ نمی جذب کر رہی ہے، جس سے شدید بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات کی شدت اور امکان بڑھ رہا ہے، خصوصاً ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں۔
کلاؤڈ برسٹ چند لمحوں کا موسمی واقعہ ضرور ہے، لیکن اس کے اثرات کئی برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر وارننگ سسٹم، محفوظ تعمیرات، جنگلات کا تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کی کوششیں ہی مستقبل میں ایسے قدرتی خطرات سے ہونے والے نقصانات کو کم کر سکتی ہیں۔












