بیجنگ(پاک ترک نیوز)بیجنگ کی جانب سے بیرونِ ملک اثاثوں کی نگرانی سخت ہونے، ٹیکس سے متعلق خدشات اور عالمی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث امیر چینی شہری متبادل شہریت اور غیر ملکی پاسپورٹ حاصل کرنے میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔
غیر ملکی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے بعض دولت مند چینی شہری اپنی چینی شہریت ترک کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ دولت اور امیگریشن سے متعلق مشاورت فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایسے افراد اور خاندانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو بیرونِ ملک شہریت یا مستقل رہائش کے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔
چین دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے چینی شہریوں کو کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے کے لیے اپنی چینی شہریت ترک کرنا پڑتی ہے۔
امیگریشن کنسلٹنسی آرٹن کیپیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آرمنڈ آرٹن کے مطابق بعض کلائنٹس متعدد پاسپورٹ رکھنے کے لیے چینی شہریت چھوڑنے پر آمادہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ کے انتخاب کا انحصار افراد کے طرزِ زندگی اور کاروباری ضروریات پر ہوتا ہے۔
سنگاپور کی قانونی فرم بے فرنٹ لا کے ڈائریکٹر ریان لِن کے مطابق جولائی سے ایسے دولت مند چینی شہریوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو اپنی شہریت ترک کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
اسی عرصے میں بیجنگ نے بیرونِ ملک قائم ٹرسٹس سے متعلق اقدامات متعارف کرائے، جن کے تحت بعض آمدنیوں اور لین دین پر 20 فیصد ٹیکس لاگو ہونے کا امکان ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد بعض خاندان بیرونِ ملک اپنے اثاثے رکھنے اور منتقل کرنے کے طریقوں پر نظرِثانی کر رہے ہیں۔
دولت سے متعلق مشاورتی ادارے فیرو کیپیٹل کے شریک بانی منیش تِبروال نے بھی غیر ملکی پاسپورٹ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی تصدیق کی ہے۔ ان کے ادارے کے مطابق بعض چینی خاندان کیریبین ممالک کی شہریت کے ساتھ سنگاپور کی مستقل رہائش حاصل کرنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، جبکہ طویل مدت میں سنگاپور کی شہریت بھی ان کے منصوبوں میں شامل ہے۔ تاہم اس کا حصول حکومتی منظوری سے مشروط ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ کا نیا خوفناک دور
امیگریشن ادارے سیوری اینڈ پارٹنرز کے مطابق جولائی کے بعد چینی کلائنٹس کی جانب سے معلومات حاصل کرنے کی درخواستوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گلوبل سٹیزن سلوشنز نے گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی اطلاع دی ہے۔
غیر ملکی رہائش کے بجائے براہِ راست دوسری شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند دولت مند چینی شہریوں کے لیے کیریبین خطہ اہم انتخاب بن رہا ہے۔






