پائلٹ غائب، اے آئی ڈرونز کا راج؟
لاہور (پاک ترک نیوز)سوچیے۔۔۔ آسمان پر دشمن کا لڑاکا طیارہ ہے، لیکن اسے تباہ کرنے کے لیے سامنے کوئی پائلٹ نہیں! نہ انسانی جان کا خطرہ، نہ روایتی جنگ کا انداز۔۔ اب میدان میں اتر رہے ہیں مصنوعی ذہانت سے لیس قاتل ڈرونز! اور برطانیہ نے مستقبل کی جنگ کے لیے ایسا ہی منصوبہ تیار کر لیا ہے
برطانوی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ہارو اسمتھ کا اعلان ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں انسانوں کے بجائے خودمختار ٹیکنالوجی کا کردار بڑھنے والا ہے۔
منصوبے کے مطابق، ایک ٹائفون لڑاکا طیارے کے ساتھ چار مسلح، بغیر پائلٹ کے اے آئی ڈرونز پرواز کریں گے۔ یہ ڈرونز دور دراز علاقوں میں نگرانی، دشمن کے اہداف کی نشاندہی اور جنگی کارروائیوں میں مدد دے سکیں گے۔
مصنوعی ذہانت کی مدد سے یہ پیچیدہ فضائی ماحول میں کام کر سکیں گے،
جبکہ انہیں دور موجود انسانی آپریٹرز کنٹرول کریں گے۔
ان ڈرونز کے ابتدائی تجربات آئندہ سال شروع کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ دہائی کے اختتام تک انہیں عملی سروس میں شامل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ منصوبہ نیٹو کی اس تیاری کا بھی حصہ ہے جس کے تحت برطانیہ اور اتحادی ممالک کو 2030 تک ممکنہ جنگ کے لیے تیار رہنا ہے۔
برطانوی فضائیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کم اہلکاروں کے ساتھ زیادہ وسیع جنگی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے اسٹڈی ویزا کے لیے مالی شرائط سخت، طلبہ کو زیادہ رقم دکھانا ہوگی
امریکا اور اسرائیل نے بھی غزہ اور ایران میں جنگی کارروائیوں کے دوران مصنوعی ذہانت کے نظاموں سے اہداف کی نشاندہی اور حملوں کی رفتار بڑھانے کے لیے مدد لی ہے۔ روس اور یوکرین بھی زمینی اہداف کی شناخت اور حملوں کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے لگے ہیں۔






