تہران ( پاک ترک نیوز) ایران کے ہاتھ ایسا خزانہ لگ گیا ہے جو خطے کی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ امریکا کا سب سے خوفناک ہتھیار اب خود اس کیلئے دردِ سر بننے والا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی ٹیکنالوجی جنگ شروع ہونے جا رہی ہے ۔امریکا نے ماضی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کی نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنا کر انہیں شدید نقصان پہنچایا۔ اس آپریشن میں بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیاروں سے GBU-57 بنکر بسٹر بم گرائے گئے۔ ایسے بم جو زمین کی گہرائیوں میں چھپی مضبوط ترین تنصیبات کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔لیکن کہانی کا اصل موڑ اب سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان کے مطابق ان بموں میں سے کچھ پھٹ نہیں سکے اور مبینہ طور پر اب بھی زمین کے اندر موجود ہیں۔
اگر یہ دعویٰ درست ہے تو معاملہ صرف ایک ناکام دھماکے کا نہیں بلکہ ایک ممکنہ اسٹریٹجک خطرے کا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر کسی ملک کو دشمن کے جدید ترین ہتھیار تک رسائی مل جائے تو وہ اس کی ریورس انجینئرنگ کرکے اس کی ٹیکنالوجی کو سمجھ سکتا ہے۔ اگر ایران واقعی ان بموں تک پہنچنے اور ان کا تکنیکی جائزہ لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ دو راستے اختیار کر سکتا ہے: ایک، اسی نوعیت کا ہتھیار تیار کرنے کی کوشش؛ اور دوسرا، ایسے زیرِ زمین بنکر ڈیزائن کرنا جو مستقبل میں ایسے حملوں کو بے اثر بنا سکیں۔
سوال یہ ہے: کیا یہ محض ایک سیاسی بیان ہے یا واقعی خطے میں طاقت کے توازن کو بدل دینے والی پیش رفت؟ اگر ٹیکنالوجی کی یہ دوڑ تیز ہوئی تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ آنے والے دن فیصلہ کریں گے کہ یہ دعویٰ محض بیان بازی ہے یا ایک نئی اسٹریٹجک کہانی کی شروعات؟












