کراچی ( پاک ترک نیوز) پاکستانی پاپ موسیقی کی ملکہ اور عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 26 برس بیت گئے، تاہم ان کی آواز، گیت اور موسیقی کے منفرد انداز کی گونج آج بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔
نازیہ حسن نے انتہائی کم عمری میں موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا اور صرف 17 برس کی عمر میں فلم ’’قربانی‘‘ کے گیت ’’آپ جیسا کوئی‘‘ سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ یہ گیت نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت اور دنیا کے مختلف ممالک میں بھی بے حد مقبول ہوا اور نازیہ حسن کو عالمی سطح پر شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
نازیہ حسن اور ان کے بھائی زوہیب حسن کی جوڑی نے برصغیر کی موسیقی میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ دونوں بہن بھائیوں نے مل کر پاپ موسیقی کو نوجوان نسل میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا البم ’’ڈسکو دیوانے‘‘ ریکارڈ کامیابی سے ہمکنار ہوا اور اس کے گیت کئی ممالک میں سنے گئے۔
اس کے بعد نازیہ اور زوہیب کی جوڑی نے ’’بوم بوم‘‘، ’’ینگ ترنگ‘‘، ’’ہاٹ لائن‘‘ اور دیگر مقبول البمز کے ذریعے پاپ موسیقی کو نئی سمت دی۔ نازیہ حسن کی آواز میں ایک خاص کشش، سادگی اور تازگی تھی، جس نے انہیں اپنے دور کی دوسری گلوکاراؤں سے منفرد مقام دلایا۔
نازیہ حسن نے اپنے مختصر مگر شاندار فنی سفر میں متعدد یادگار گیت گائے۔ ’’آپ جیسا کوئی‘‘، ’’ڈسکو دیوانے‘‘، ’’دل کی لگی‘‘ سمیت ان کے کئی گیت آج بھی موسیقی کے شائقین میں مقبول ہیں۔ ان کے گیتوں نے نہ صرف نوجوانوں کو متاثر کیا بلکہ پاکستان میں پاپ میوزک کی مقبولیت کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔
نازیہ حسن کو ان کی غیر معمولی فنی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت مختلف ملکی اور بین الاقوامی ایوارڈز ملے۔ وہ پاکستان کی ان چند فنکاروں میں شامل تھیں جنہوں نے کم عمری میں بین الاقوامی سطح پر اپنی منفرد شناخت بنائی۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: تفتیش کے لیے 10 افراد کی فہرست تیار
موسیقی کے ساتھ ساتھ نازیہ حسن نے اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا۔ انہوں نے لندن سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں بھی تعلیم حاصل کی۔ وہ سماجی کاموں میں بھی دلچسپی رکھتی تھیں اور معاشرے کے کمزور طبقات خصوصاً بچوں اور خواتین کی بہتری کے لیے کام کرنے کا جذبہ رکھتی تھیں۔
زندگی کے آخری برسوں میں نازیہ حسن کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوگئیں۔ انہوں نے طویل عرصے تک بیماری کا بہادری سے مقابلہ کیا، تاہم 13 اگست 2000 کو لندن میں صرف 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔






