انقرہ: (پاک ترک نیوز)ترکیہ کی جانب سے ایف-35 جنگی طیاروں کے پروگرام میں دوبارہ شمولیت کی درخواست تاحال تعطل کا شکار ہے، جبکہ قبرص نے کہا ہے کہ وہ اس پیش رفت کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے۔
ترک دارالحکومت انقرہ میں تعینات امریکی سفیر ٹام بیریک کے مطابق اس معاملے کا فیصلہ آئندہ چار سے چھ ماہ میں متوقع ہے۔
استنبول میں ایک پینل سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نے واضح کیا کہ امریکا ترکیہ کو ایف-35 جنگی طیارے فروخت نہیں کرے گا، جبکہ انقرہ یوروفائٹر طیارے خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال کو “ناقابلِ فہم” قرار دیا ہے۔ٹام بیریک کا کہنا تھا کہ ترکی کے پاس پہلے ہی مضبوط دفاعی صنعت موجود ہے، جس میں مقامی ڈرون پروگرام شامل ہیں، جن کی قیادت صدر رجب طیب اردوان کے داماد سلجوق بیرقدار کر رہے ہیں، اور یہ ڈرون یوکرین سمیت مختلف محاذوں پر استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے جنگی طیاروں کے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔
قبرص میل سے گفتگو کرتے ہوئے قبرص کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ معاملہ مکمل طور پر امریکی حکومت کے اختیار میں ہے، تاہم قبرص صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر کسی پیش رفت سے قومی سلامتی یا علاقائی استحکام متاثر ہوا تو مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
امریکی سفیر کے مطابق ترکی ہکو ایف-35 پروگرام سے باہر رکھنے کی بنیادی وجہ روس سے حاصل کردہ ایس-400 فضائی دفاعی نظام ہے، جو اس وقت غیر فعال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ مسئلہ آئندہ چار سے چھ ماہ میں حل ہو سکتا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ترکی کے چار ایف-35 طیارے اس وقت امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں موجود ہیں اور ترکیہ نے طیارے کے ڈھانچے کی تیاری میں بھی حصہ لیا تھا، مگر اس کے باوجود ترکیہ کو ان طیاروں تک رسائی حاصل نہیں۔
دوسری جانب اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکبی نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ترکیہ کے پاس روسی فوجی نظام موجود رہے گا، امریکی قانون کے تحت ایف-35 طیاروں کی فراہمی ممکن نہیں۔












