
از: سہیل شہریار
واشنگٹن سے خبر آئی ہے کہ صدر ٹرمپ نیتن یاہو کے ایک قریبی دوست اور اہم اتحادی قطر کے دارالحکومت دوحہ پر ان سے پوچھے اور بتائے بغیر حملہ کرنے پر سخت نالاں ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کرنیتن یاہو امریکہ کے دوستوں کو دنیا میں کسی بھی جگہ حملہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
امریکی و عرب میڈیاکے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نیتن یاہو کے اس طرز عمل پر سیخ پا ہیںاور وائیٹ ہاؤس کی ناراضگی نیتن یاہو کے لئے اندرون و بیرون ملک بری خبریں لانے کا موجب بن سکتی ہے۔ ایک جریدے نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ اور انکے وزرا و مشیر اسرائیلی کاروائی کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حماس نہیں بلکہ صیہونی حکومت امریکہ کی جانب سےیرغمالیوں کی رہائی اور قیام امن کی کاوشوں کو ناکام بنانے کے درپے ہے۔ ایسی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ درون خانہ یہ سب کچھ امریکہ اور اسرائیل کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔اور یہ کچھ بعید بھی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ سب کے سامنے ہے کہ نیتن یاہو امریکی اشیر باد اور تحفظ کے نتیجے میں دو سال سے غزہ میں نسل کشی کی سزاسے بچ رہے ہیں۔ اور اس مرتبہ بھی دوحہ حملے پر امریکہ کا سرکاری بیان دوغلے پن کا شاندار مظاہرہ ہے۔
دوحہ پر حملے سے پہلے یہ تاثر تھا کہ نیتن یاہو صرف ایک شخص کی قدر کرتے ہیں اور اس کی پرواہ کرتے ہیں ۔ اور وہ ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹرمپ ہی وہ واحد شخص ہے جواسرائیل کو جنگ روکنے یا جنگ بندی پر مجبور کرسکتاہے۔مگر دوحہ حملے کے فوراً بعد ٹرمپ کی بظاہر ناراضگی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئےنیتن یاہو نےنہ صرف دوحہ بلکہ پورے خطے میں مزید حملوں کی دھمکی لگا دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک بڑے امریکی اتحادی پر فضائی حملےکی مذموم کاروائی کے باوجود اسرائیل کے بارے میں امریکی حکومت اور صدر ٹرمپ کے بنیادی نقطہ نظر میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔البتہ ان حملوں نے ٹرمپ-نیتن یاہو تعلقات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔اور ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ نیتن یاہو کی یک طرفہ کاروائیوں سے صدر ٹرمپ کی جھنجلاہٹ بڑھ رہی ہے۔اور نیتن یاہو کو جلد یا بادیر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=NgDWhf6RICI
قطر کے وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے دوحہ میں حماس کی قیادت کودوبارہ نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اس کے سنگین اثرات غزہ میں یرغمالیوں کے معاملے پر پڑ سکتے ہیں۔انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو انکے تازہ بیان پر سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوحا میں حماس کے دفتر کی میزبانی سے متعلق قابل مذمت اسرائیلی بیانات غیر ذمہ دارانہ اور صداقت سے عاری خیالات کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر نہ صرف اپنی ثالثی کی ذمہ داری پر نظر ثانی کر رہا ہے۔ بلکہ ملک میں حماس کے مستقبل کے حوالے سے بھی نئی پالیسی مرتب کر رہا ہے۔
ادھرایک اعلیٰ اسرائیلی عہدے دار نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کو اس حملے میں حماس کے بڑے رہنماؤں کو قتل کرنے میں ناکامی پر بھاری سیاسی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ دوسری جانب بعض اسرائیلی حکام نے تسلیم کیا ہےکہ دوحہ پرحملے سے کوئی تزویراتی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اور اس کارروائی سے تقریباً یقینی ہو گیا ہے کہ قیدیوں کی رہائی فی الحال ممکن نہیں۔












