واشنگٹن(آئی پاک ٹی وی ) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں 2 روز میں دوسری ملاقات ہوئی تاہم بات چیت کا اعلامیہ جاری نہ کیا جاسکا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی دوسری ملاقات بھی عشائیے پر ہوئی۔
90 منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات سے متعلق وائٹ ہاؤس یا اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے بیان بھی جاری نہیں کیا گیا اور ملاقات ختم ہونے پر اسرائیلی وزیراعظم میڈیا سے بات چیت کیے بغیر ہی وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے۔
دوسری جانب میڈیا ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ شاید کوئی رکاوٹ یا اختلافی نکتہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پیش آیا ہو۔
اگرچہ پچھلے دنوں دونوں رہنماؤں نے مثبت بیانات دیئے تھے لیکن اس خفیہ ملاقات کی نوعیت اور تفصیلات کا نہ آنا ظاہر کرتا ہے کہ حالات اتنے سادہ نہیں۔
ملاقات سے پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ غزہ پر بات کریں گے اور یہ مسئلہ حل ہونا چاہیے، اسرائیل اور حماس نے 4 میں سے 3 مسائل حل کر لیے ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر واضح پیشرفت نہ ہو سکی، حکام غزہ سے انخلا کی صورت میں اسرائیلی فوج کی مختلف علاقوں میں موجودگی سے متعلق امور پر بحث کرتے رہے تاہم فلسطینیوں کو امداد کی فراہمی کا طریقہ طے کر لیا گیا ہے۔
ٹرمپ نیتن یاہو ملاقات کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی صدر کے مشیر سٹیو وٹکوف نے دوحہ کا دورہ ملتوی کردیا ہے جہاں حماس اوراسرائیل کے درمیان بلواسطہ بات کا نیا دورشروع ہونا ہے۔
وٹکوف نے امید ظاہر کی تھی کہ اسی ہفتے کے اختتام تک 60 روزہ جنگ بندی طے پاجائے گی، اسرائیلی وزیراعظم کے وائٹ ہاؤس آنے سے پہلے قطری وفد یہاں آیا اور وائٹ ہاؤس کے سینئر حکام سے کئی گھنٹے بات چیت کی۔











