پشاور ( پاک ترک نیوز) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور میں سینیئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد نو ماہ تک سب کچھ دیکھا، عدالتوں سمیت ہر فورم پر گئے، مگر کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کا صرف یہ مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی بہنوں کی موجودگی میں ہونا چاہیے اور ان کا اپنے ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ شفا اسپتال میں علاج کرایا جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ نو ماہ تک مسلسل ہماری کوئی بات نہیں سنی گئی، ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان لڑائی کا فائدہ ان لوگوں کو ہو رہا ہے جو ہم پر مسلط ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب احتجاج ملتوی کرنے کے لیے رابطے کیے جا رہے ہیں، نو ماہ تک کچھ نہیں کیا گیا، اب کیا کریں گے؟ رابطے کرنے والوں کے پاس اب بھی سات دن ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر ایک بار ہم نکلے تو پھر واپسی نہیں ہوگی، چار اکتوبر کو روانہ ہوئے تو اپنے مقاصد حاصل کرنے تک واپس نہیں آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی کپتان کا پاکستانی پرچم سنبھالنے کا منظر سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر ایک بار ہم نکلے تو پھر واپسی نہیں ہوگی، چار اکتوبر کو روانہ ہوئے تو اپنے مقاصد حاصل کرنے تک واپس نہیں آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہماری پَیچ پر آئے تو انہیں خوش آمدید کہیں گے، یقیناً مولانا ہماری پَیچ پر آئیں گے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ احتجاج کے لیے تیاریاں مکمل ہیں، احتجاج مؤخر کرنے کا فیصلہ بھی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔












