لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا میں پانی کے ذخائر تیزی سے دباؤ کا شکار ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین کے زیادہ تر میٹھے پانی کا بڑا حصہ صرف چند جھیلوں میں محفوظ ہے؟ روس کی ایک جھیل اکیلے ہی دنیا کے سطحی میٹھے پانی کا تقریباً پانچواں حصہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جبکہ افریقہ، شمالی امریکہ اور حتیٰ کہ برف سے ڈھکے انٹارکٹیکا میں بھی ایسے حیرت انگیز آبی ذخائر موجود ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں دنیا کی دس بڑی میٹھے پانی کی جھیلیں اور ان کی منفرد خصوصیات۔
دنیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں کی درجہ بندی رقبے کے بجائے ان میں موجود پانی کے حجم کے مطابق کی جاتی ہے۔ اسی لیے بعض نسبتاً چھوٹی لیکن انتہائی گہری جھیلیں، رقبے میں بڑی جھیلوں سے بھی زیادہ پانی اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں۔
فہرست میں پہلے نمبر پر روس کے سائبیریا میں واقع جھیل بائیکال ہے، جس میں تقریباً 23 ہزار مکعب کلومیٹر پانی موجود ہے۔
یہ دنیا کی سب سے قدیم اور سب سے گہری میٹھے پانی کی جھیل ہے، جس کی عمر تقریباً دو سے ڈھائی کروڑ سال اور زیادہ سے زیادہ گہرائی 5 ہزار 315 فٹ ہے۔
ماہرین کے مطابق زمین کے تمام سطحی میٹھے پانی کا تقریباً 22 فیصد صرف اسی ایک جھیل میں محفوظ ہے، جبکہ اس میں موجود پانی کا حجم تقریباً تمام گریٹ لیکس کے مجموعی پانی کے برابر ہے۔
دوسرے نمبر پر جھیل ٹانگانیکا ہے، جو کانگو، برونڈی، تنزانیہ اور زیمبیا کے درمیان واقع ہے۔اس میں تقریباً 18 ہزار 757 مکعب کلومیٹر پانی موجود ہے اور یہ دنیا کی سب سے طویل میٹھے پانی کی جھیل بھی ہے۔یہ جھیل دس ملین سے زائد افراد کے لیے خوراک اور روزگار کا ذریعہ ہے، جہاں ہر سال تقریباً دو لاکھ ٹن مچھلی پکڑی جاتی ہے۔
تیسرے نمبر پر امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع لیک سپیریئر ہے، جس میں 12 ہزار 88 مکعب کلومیٹر پانی موجود ہے۔
رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس جھیل کا تمام پانی استعمال کیا جائے تو پورے شمالی اور جنوبی امریکہ کو تقریباً ایک فٹ پانی سے ڈھانپا جا سکتا ہے۔
چوتھے نمبر پر جھیل ملاوی ہے، جس میں 8 ہزار 399 مکعب کلومیٹر پانی موجود ہے۔یہ افریقہ کی حیاتیاتی تنوع سے بھرپور جھیلوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں تقریباً ایک ہزار اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں، جن میں سے کئی دنیا میں کہیں اور موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیونٹیوں کی فوج چند منٹ میں خوراک تک کیسے پہنچتی ہیں؟
پانچویں نمبر پر لیک ووستوک ہے، جو دنیا کی سب سے منفرد جھیلوں میں شمار ہوتی ہے۔یہ مکمل طور پر انٹارکٹیکا کی تقریباً ڈھائی میل موٹی برف کے نیچے موجود ہے اور اس میں 5 ہزار 419 مکعب کلومیٹر پانی محفوظ ہے۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہاں موجود ممکنہ جاندار لاکھوں برس سے زمین کی باقی دنیا سے الگ ماحول میں ارتقا پذیر ہوئے ہیں۔
چھٹے نمبر پر لیک مشی گن ہے، جو مکمل طور پر امریکہ کے اندر واقع واحد گریٹ لیک ہے۔اس میں تقریباً 4 ہزار 918 مکعب کلومیٹر پانی موجود ہے اور اس کے کناروں پر ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد افراد آباد ہیں، جن میں شکاگو جیسے بڑے شہر بھی شامل ہیں۔
ساتویں نمبر پر لیک ہیورن ہے، جو امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع ہے۔یہ اپنی 3 ہزار 827 میل طویل ساحلی پٹی کے باعث گریٹ لیکس میں منفرد مقام رکھتی ہے۔اسی جھیل میں دنیا کا سب سے بڑا میٹھے پانی کا جزیرہ منی ٹولن آئی لینڈ بھی واقع ہے۔
آٹھویں نمبر پر جھیل وکٹوریہ ہے، جو یوگنڈا، تنزانیہ اور کینیا کے درمیان واقع ہے۔یہ رقبے کے لحاظ سے افریقہ کی سب سے بڑی جھیل اور دنیا کی سب سے بڑی استوائی میٹھے پانی کی جھیل ہے۔اس کے گرد تقریباً چار کروڑ افراد آباد ہیں جبکہ یہاں سالانہ تقریباً دس لاکھ ٹن مچھلی پیدا ہوتی ہے۔
نویں نمبر پر کینیڈا کی گریٹ بیئر لیک ہے، جس میں 2 ہزار 234 مکعب کلومیٹر پانی موجود ہے۔یہ آرکٹک سرکل کے قریب واقع ہے اور اپنی انتہائی بڑی ٹراؤٹ مچھلیوں اور قدرتی حسن کی وجہ سے مشہور ہے۔
فہرست میں دسویں نمبر پر لیک اونٹاریو ہے، جو امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع ہے۔یہ گریٹ لیکس میں رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی جھیل ہے، لیکن اس کا کردار انتہائی اہم ہے کیونکہ یہی جھیل دریائے سینٹ لارنس کے ذریعے بحرِ اوقیانوس سے جڑی ہوئی ہے۔اس کے کنارے تقریباً 90 لاکھ افراد آباد ہیں اور یہ پینے کے پانی، تجارت، نقل و حمل اور سیاحت کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ دنیا کی یہ عظیم جھیلیں صرف پانی کے ذخائر ہی نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں اور بے شمار آبی حیات کی بقا کا ذریعہ بھی ہیں۔آلودگی، حد سے زیادہ ماہی گیری، موسمیاتی تبدیلی، حملہ آور آبی انواع اور بے ہنگم ترقی ان جھیلوں کے لیے مسلسل خطرات پیدا کر رہی ہیں۔اگر بروقت مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں دنیا کو میٹھے پانی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دنیا کی یہ دس عظیم جھیلیں انسانیت کے لیے قدرت کا ایک انمول خزانہ ہیں۔ ان کا تحفظ صرف ماحولیات ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے پانی، خوراک اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی ضمانت بھی ہے۔






