
از: سہیل شہریار
ایوی ایشن کی تاریخ کا سب سے بڑا دبئی ایئر شو پانچ روز تک جاری رہنے کے بعد جب جمعہ کے روز ختم ہوا تو آخری روز بھارتی ساختہ تیجس لڑاکا طیارے کی فضائی کرتب دکھاتے ہوئے تباہی کے ساتھ ہتھیاروں کی بین الاقوامی منڈی میںاسکا مستقبل بھی اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
انتظامیہ کے مطابق 17 سے 21 نومبر تک جاری رہنے والے اس ایئر شو میں مختلف ممالک کی جانب سے 200 سے زیادہ کمرشل اور لڑاکا طیارے نمائش کے لیے رکھے گئے تھے ۔دبئی کے المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والی اس نمائش میں جہاں ایئر بس، لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ، فالکن سمیت دیگر کمپنیوں نے اپنے پویلین قائم کر رکھے تھے۔وہیںپاکستان اوربھارت کے پویلین انکے شہریوں کی دلچسپی کا باعث تھے کیونکہ وہاں جے ایف۔ 17 تھنڈر اور تیجس طیارےنمائش کے لئے رکھے گئے ۔اس بات کا بھی چرچا ہورہا ہے کہ بھارتی فضائیہ کی ایئر شو میں شامل ٹیم کے لوگ تھنڈرکے ساتھ سیلفیاں بناتے رہے ۔
ایئر شوزطیارہ ساز اداروں کو اپنے کمرشل اور لڑاکا طیاروں کی خصوصیات دُنیا کو دکھانے کا موقع دیکھتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی ملک کا طیارہ ایئر شو کے دوران ہی تباہ ہو جائے تو یہ بہت بڑا دھچکہ ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ دبئی ایئر شو کے آخری روز تیجس لڑاکا طیارے کایہ دوسرا حادثہ ہے۔ اس سے قبل مارچ 2024 میںبھارت کی مغربی ریاست راجستھان میں بھی ایک تیجس طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے جہاں اس حادثے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے وہیں وہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ تیجس بنانے والی کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ انہیں کوئی اچھا جہاز دینے میں ناکام رہی ہے۔ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ حکومت سے کئی بار درخواست کر چکے ہیں کہ تیجس بھارتی فضائیہ میں شمولیت کے لائق نہیںمگر انکا مؤقف نہیں سنا گیا۔
اگرچہ ہندوستان ایروناٹیکس نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں تیجس کی تباہی کو فنی خرابی سے جوڑا ہے ۔مگر حادثے سے تین روز قبل بھی اس طیارے سے تیل کے اخراج کی ویڈیو دنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی کا باعث بنی تھی ۔
دوسری جانب پاکستان ایئرو ناٹیکل کمپلیکس کامرہ نے دبئی ایئر شو میں اپنا پویلین قائم کیا تھا جس میں یہاں تیار ہونے والے دو جے ایف-17 بلاک تھری لڑاکا اور پی ایل 15 میزائل رکھے گئے تھے۔ پاکستان نے نمائش میں سپر مشاق طیارے بھی رکھے تھے۔
ایئر شو کے دوران جے ایف-17 لڑاکا طیارے نے فضائی کرتب بھی دکھائے۔سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک دوست ملک نے جے ایف تھنڈر طیارے خریدنے کے لیے ایم او یو بھی سائن کر لیا ہے۔







