لاہور( پاک ترک نیوز) لیبیا نے صحرائے صحارا کے نیچے موجود قدیم زیرِ زمین پانی کو ساحلی شہروں تک پہنچانے کے لیے دنیا کے سب سے بڑے آبی منصوبوں میں سے ایک تعمیر کیا، جسے گریٹ مین میڈ ریور کا نام دیا گیا۔ لیبیائی حکومت نے اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا، جبکہ ماہرین اسے جدید دور کے عظیم ترین انجینئرنگ منصوبوں میں شمار کرتے ہیں۔
1950 کی دہائی میں لیبیا کے جنوب مشرقی علاقے الکفرہ میں تیل کی تلاش کے دوران ماہرین کو زیرِ زمین پانی کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے۔ یہ پانی ہزاروں نہیں بلکہ بعض اندازوں کے مطابق 10 ہزار سے 10 لاکھ سال پرانا ہے، جو اس دور کا باقی ماندہ پانی ہے جب صحارا ایک سرسبز اور معتدل خطہ تھا۔
اس قیمتی ذخیرے کو شمالی شہروں تک پہنچانے کے لیے 1980 کی دہائی میں ایک دیوہیکل منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت صحرا کے نیچے تقریباً 4 ہزار کلومیٹر طویل پائپ لائنوں کا جال بچھایا گیا، جو روزانہ 65 لاکھ مکعب میٹر پانی منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گریٹ مین میڈ ریور کا پہلا مرحلہ 1991 میں مکمل ہوا، جس کے بعد جنوبی صحرائی علاقوں سے پانی بن غازی، سرت اور دیگر شمالی شہروں تک پہنچنا شروع ہوا۔ اس منصوبے میں استعمال ہونے والے پائپ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے پائپ سمجھے جاتے تھے، جن کا قطر تقریباً 4 میٹر تھا۔
پانی کو حاصل کرنے کے لیے تقریباً 500 میٹر گہرے سینکڑوں کنویں کھودے گئے، جہاں سے طاقتور پمپوں کے ذریعے پانی نکال کر ہزاروں کلومیٹر دور ساحلی علاقوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
اس نظام کا ایک حیران کن پہلو وہ دیوہیکل ذخائر ہیں جو صحرا میں مصنوعی جھیلوں کی شکل میں تعمیر کیے گئے۔ اجدابیہ میں واقع سب سے بڑا ذخیرہ ایک کلومیٹر سے زیادہ قطر رکھتا ہے اور اس میں 2 کروڑ 40 لاکھ مکعب میٹر پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
یہ ذخائر پانی کی تقسیم اور نگرانی کو آسان بناتے ہیں، تاہم شدید گرمی کے باعث پانی کے بخارات بن کر ضائع ہونے کا مسئلہ بھی موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پانی فوسل واٹر کہلاتا ہے، یعنی ایسا پانی جو موجودہ موسمی حالات میں دوبارہ پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرے الفاظ میں جو پانی آج نکالا جا رہا ہے، وہ قدرتی طور پر واپس نہیں آئے گا۔
لیبیائی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ ذخائر ہزاروں سال تک کافی رہیں گے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار سے پانی نکالا جاتا رہا تو آنے والی دہائیوں میں ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یونان کے بعد خوفناک خونی آسمان مصر اور لیبیا کی جانب گامزن!
2011 کے بعد لیبیا میں سیاسی بحران اور خانہ جنگی نے اس منصوبے کی توسیع اور دیکھ بھال کو متاثر کیا۔ اس قدر بڑے نظام کو فعال رکھنے کے لیے مسلسل مرمت، تربیت یافتہ عملہ اور مستحکم حکومتی انتظام ضروری ہے۔
گریٹ مین میڈ ریور صرف ایک انجینئرنگ منصوبہ نہیں بلکہ پانی کے عالمی بحران کے حوالے سے ایک اہم مثال بھی ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صحرا کے نیچے چھپے وسائل کو انسانی ضرورت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔








