پیرس ( پاک ترک نیوز) رپورٹ کے مطابق ونڈ ٹو واٹ ٹربائن کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے دور دراز علاقوں، دیہی آبادیوں، کھیتوں اور حتیٰ کہ سمندری پلیٹ فارمز پر بھی آسانی سے نصب کیا جا سکے۔ اس کی تیاری میں ایلومینیم پائپوں اور پلاسٹک ترپال کا استعمال کیا گیا ہے، جس کی بدولت یہ ہلکی پھلکی، آسانی سے منتقل ہونے والی اور جلد نصب کی جانے والی ٹیکنالوجی بن گئی ہے۔
منصوبے کے خالق فابین برون کے مطابق ان کا مقصد صاف توانائی کو بڑے صنعتی منصوبوں تک محدود رکھنے کے بجائے عام لوگوں کی دسترس میں لانا ہے تاکہ دنیا کے وہ علاقے بھی مستفید ہو سکیں جہاں روایتی بجلی کا انفراسٹرکچر موجود نہیں۔
اس ونڈ ٹربائن کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں استعمال ہونے والا ایلومینیم اور پلاسٹک سو فیصد قابلِ ری سائیکل ہے۔ اس طرح یہ روایتی ونڈ ٹربائنز کے مقابلے میں زیادہ ماحول دوست ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ موجودہ ٹربائنز میں استعمال ہونے والے فائبر گلاس بلیڈز کو ری سائیکل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ونڈ ٹو واٹ کی متوقع قیمت تقریباً 2 ہزار 500 یورو رکھی گئی ہے جبکہ سالانہ دیکھ بھال پر صرف 50 یورو خرچ آئے گا۔ تخمینوں کے مطابق یہ منصوبہ پانچ سال کے اندر اپنی لاگت پوری کر سکتا ہے اور 25 سال کی مدت میں تقریباً 10 ہزار یورو کا خالص مالی فائدہ فراہم کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماڈیولر ڈیزائن کی بدولت اس نظام کو ضرورت کے مطابق چھوٹا یا بڑا کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس کی نقل و حمل، مرمت اور تنصیب بھی روایتی ونڈ ٹربائنز کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فیلڈمارشل سید عاصم منیر کے معترف
اگرچہ یہ منصوبہ ابھی ترقی کے مراحل میں ہے، تاہم اسے یورپ، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور بھارت سمیت مختلف خطوں میں تکنیکی اور تجارتی دلچسپی حاصل ہو چکی ہے اور اسے توانائی کی فراہمی کے لیے ایک کم لاگت اور پائیدار حل قرار دیا جا رہا ہے۔






